قومی پیغامِ امن علماء و مشائخ کانفرنس

قومی پیغامِ امن علماء و مشائخ کانفرنس: دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خلاف قومی اتحاد پر زور

پشاور: قومی پیغامِ امن کمیٹی کے زیر اہتمام علماء و مشائخ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ چیئرمین پاکستان علمائے کونسل حافظ طاہر اشرفی نے بھی خطاب کیا۔

حافظ طاہر اشرفی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ وہ چرچ آف پاکستان کے شکر گزار ہیں اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کی پہلی سرگرمی چرچ سے شروع کرنا بین المذاہب ہم آہنگی کا عملی اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی وزیراعظم کی ہدایت اور فیلڈ مارشل کے وژن کے تحت قائم کی گئی ہے، جس میں اقلیتوں کے نمائندوں کو شامل کر کے نفرتوں کے خاتمے اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جب بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، تمام مکاتبِ فکر نے متحد ہو کر اس کا مقابلہ کیا۔ پشاور چرچ حملے کے بعد بھی تمام مسالک نے یکجہتی کا اظہار کیا۔ ان کے بقول پاکستان کی تاریخ میں یہ ایک یادگار موقع ہے کہ مختلف مسالک کے علماء چرچ میں اپنے مسیحی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف پوری قوم متحد ہے اور پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی پرچم کے سائے تلے سب ایک ہیں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ملکی بقاء، سلامتی اور عظمت کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے، جنہوں نے ہر محاذ پر ملک کا دفاع کیا۔

گورنر نے کہا کہ پاکستان میں امن، رواداری، بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب احترام کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے علماء، مشائخ اور مذہبی قیادت کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کر سکتی ہے، تاہم انتہاپسند سوچ کے خاتمے میں منبر و محراب، مسجد اور خانقاہ کا بنیادی کردار ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، جہاں پائیدار امن ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بدامنی پاکستان دشمن قوتوں کی سازش ہے، جس کا مقابلہ قومی اتحاد سے کیا جائے گا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی، جبکہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کے لیے گورنر ہاؤس کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں