خبر کی اپ ڈیٹ
سینئر صحافی محمد طاہر کے مطابق، مجیب الرحمان شامی دنیا نیوز میں اپنے پروگرام سمیت دوبارہ بحال ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ رات گلبرگ لاہور میں میاں عامر محمود کے ریسٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد معاملات طے پا گئے۔ محمد طاہر نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ انتظامی اور کاروباری نوعیت کا تھا، اسے آزادیِ صحافت یا ملازمین کے حقوق کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، جبکہ دفتر کا اسٹاف معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔
اس سے قبل سینئر صحافی نواز رضا نے اپنی پوسٹ میں بتایا تھا کہ مجیب الرحمان شامی نے دنیا نیوز کی انتظامیہ کی جانب سے پروگرام “نقطۂ نظر” کے میزبان سلمان حسن اور پروگرام کے پروڈیوسر کو مبینہ طور پر اعتماد میں لیے بغیر فارغ کیے جانے پر احتجاجاً استعفیٰ دیا تھا۔ شامی کے مطابق ان کے استعفے کی یہی واحد وجہ تھی۔
نوٹ: مجیب الرحمان شامی کی بحالی اور ملاقات سے متعلق دعویٰ سوشل میڈیا پر سینئر صحافی محمد طاہر کی پوسٹ پر مبنی ہے، جبکہ اس حوالے سے دنیا نیوز یا مجیب الرحمان شامی کی جانب سے باضابطہ اعلامیہ سامنے آنا باقی ہے۔
کیا سینئر پروفیشنل اور تجربہ کار صحافیوں کی ضرورت نہیں رہی؟
تحریر : نجم ولی خان
ابھی پتا چلا کہ دُنیا نیوز پر جناب مجیب الرحمان شامی کا پروگرام “نقطہ نظر” اور اس کے ساتھ ہی پروگرام “تھنک ٹینک” بھی بند کر دیا گیا ہے جس کا حصہ پاکستان کی آواز صحافی جناب سلمان غنی بھی تھے۔ مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ کیا پاکستان کی صحافت اور ٹی وی چینلز کو اب معتبر، معتدل اور تجربہ کار آوازوں کی ضرورت ہی نہیں رہی؟ موخرالذکر پروگرام جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کا مقابلہ کر رہا تھا اور اوپینئن میکنگ میں اہم کردار۔
میں ریٹنگز کی اہمیت سے انکار نہیں کرتا مگر یہ آن ریکارڈ ہے کہ ان پروگراموں کی ریٹنگز بہت بہتر تھی۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ہر چینل کو اپنی پروگرامنگ اور سکرین ری ڈیزائن کرنے کا حق ہے مگر اس سے بھی زیادہ درست یہ ہے کہ وہ تمام پروگرام جو ریٹنگز لے رہے ہوں، جن کی آواز سنی جا رہی ہو ان کو سینئر لوگوں کو اعتماد میں لئے بغیر بند کرنا نہ دانش ہے نہ حکمت۔
سینئر سنجیدہ اور ذمے دار صحافیوں کو صحافت کو یوٹیوبرز کے حوالے کرنے کی مزاحمت کرنی ہو گی۔ میں نے بہت سارے دوستوں سے بات کی۔ ان کا یہی کہنا ہے کہ یہ دنیا ٹی وی کی ایڈمنسٹریشن کا اپنا فیصلہ ہے اور اس میں کسی دوسرے کا کوئی کردار نہیں۔ “دنیا ٹی وی” پاکستان کے تین بڑے پرائیویٹ چینلز میں سے ایک ہے اور میں منتظر ہوں کہ وہ اپنے چینل کی آواز کو قومی ذمے داری سمجھیں گے، اس کے معیار کو گرنے نہیں دیں گے۔
میں جناب مجیب الرحمان شامی، جناب سلمان غنی اور ایسی معتبر آوازوں کو سننا چاہتا ہوں اور اگر وہ نہیں ہوں گی تو پیچھے سننے کے لئے کیا ہو گا؟ ہاو ہُو کے سوا؟ آپ کو ایک بات کہوں کہ جب آپ ایک لاکھ کے صحافی کی جگہ پچیس پچیس ہزار کے چار انٹرن رکھ لیتے ہیں تو پھر اناڑی صحافی صحافت کا وہی حال کرتے ہیں جو اناڑی ڈرائیور کسی بڑے ٹرک کا، عطائی ڈاکٹر مریض کا اور جعلی انجینئر پلوں کا۔۔ یہ قوموں کی زندگی موت کا مسئلہ پیدا کر دیتے ہیں۔
سنجیدہ اور معتبر آوازوں کو مرنے مت دیں، یہ حب الوطنی کے نظریاتی مورچے ہیں اور جہاں ہمارے فیصلہ سازوں کو آخری پناہ یہیں ملے گی وہاں یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی کسی کو یقین نہ ہو پچھلے پچاس برس کی راتوں میں ہر بار اجالوں کا طلوع دیکھ لے۔ یہی سیاہ شبوں سے آفتاب کو دھکیل کر باہر لائے ۔
#sahafatbeeti #Najamwalikhan #shami