ڈیرہ اسماعیل خان (26 جولائی 2026ء) — گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئے، جہاں انہوں نے مانجھی خیل چیک پوسٹ، ٹانک کے واقعے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے ورثاء اور زخمی غازیوں سے ملاقات کی۔
گورنر خیبرپختونخوا ہیلی کاپٹر کے ذریعے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے۔ ہیلی پیڈ پر افضل دھپ، آر پی او مبشر میکن، اسٹیشن کمانڈر بریگیڈیئر ابوبکر، پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر ملک فرحان، مقامی انتظامیہ اور اعلیٰ پولیس حکام نے ان کا استقبال کیا۔
فیصل کریم کنڈی نے سی ایم ایچ ڈیرہ اسماعیل خان میں مانجھی خیل چیک پوسٹ سانحے کے زخمی اہلکاروں کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ زخمی غازیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ فتنۃ الخوارج کا منہ توڑ جواب دینے والے غازی قوم کا فخر ہیں۔
بعد ازاں آر پی او ڈیرہ اسماعیل خان کے دفتر میں گورنر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ ڈی پی او ٹانک عبدالصمد خان نے گورنر کو واقعے کے حوالے سے بریفنگ دی، جبکہ ڈی پی او ڈیرہ اسماعیل خان ضیاء الدین احمد بھی موجود تھے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے شہدائے مانجھی خیل چیک پوسٹ کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور شہداء کے ورثاء اور زخمی اہلکاروں میں انعامات تقسیم کیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ مانجھی خیل چیک پوسٹ پر افسوسناک واقعے میں فوج، پولیس اور محکمہ جنگلات کے اہلکار شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ملک بیرونی اور اندرونی جنگ لڑ رہا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا کہ بھارت فتنۃ الخوارج کے ذریعے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی افواج اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑا ہے اور بزدلانہ دہشت گرد کارروائیاں بہادر جوانوں اور عوام کے حوصلے پست نہیں کرسکتیں۔
گورنر خیبرپختونخوا کے مطابق مانجھی خیل چیک پوسٹ حملے میں 1300 کلوگرام سے زائد بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ زخمی غازیوں کے جذبات اور حوصلے لائق تحسین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آر پی او ڈیرہ اسماعیل خان کی سفارشات وفاقی حکومت تک پہنچائی جائیں گی، جبکہ زخمی اہلکاروں کے پیکیج میں اضافے کے لیے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے بات کی جائے گی۔ شہداء اور زخمی اہلکاروں کے بچوں کی سرپرستی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی حکومت کو وفاق کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا، یہ جنگ سب نے متحد ہوکر لڑنی ہے۔ دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، اس لیے خطے اور خیبرپختونخوا میں امن کا قیام یقینی بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں عالمی طاقتوں کا چھوڑا گیا اسلحہ اکثر پاکستان کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ خیبرپختونخوا دہشت گردی کا پہلا نشانہ بنتا ہے، تاہم صوبے کی پولیس بہترین انداز میں دہشت گردوں کا مقابلہ کررہی ہے اور پولیس اہلکاروں کے حوصلے بلند ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ اسرائیل اور بھارت پاکستان کے خلاف ہر محاذ اور ہر موقع پر سازشوں میں مصروف ہیں۔ پورے صوبے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے وہ جلد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے بات کریں گے۔