ایم کیو ایم پاکستان کا پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز، نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کا مطالبہ

کراچی (27 جولائی 2026ء) — ایم کیو ایم پاکستان نے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کا واضح طریقہ کار آئین پاکستان میں درج کروانے کی فیصلہ کن جدوجہد کا اعلان کر دیا۔

شاہ فیصل ٹاؤن کے عیدگاہ گراؤنڈ میں منعقدہ احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے آئین پاکستان کی کتاب لہراتے ہوئے کہا کہ عام لوگوں کو اختیارات اور وسائل ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا موجودہ نظام ناکام ہوچکا ہے، ایک وفاق اور چار صوبوں کا نظام عوام میں بددلی پیدا کر رہا ہے، آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جس سے پاکستان کی بقا اور سلامتی مشروط ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ نئے صوبے بنانے سے ملک یا سندھ نہیں ٹوٹتا بلکہ مضبوط ہوتا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان آئین، قانون، پارلیمنٹ اور ریاست کے دائرے میں رہ کر عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے اور ہتھیار اٹھانے یا بغاوت کے سخت خلاف ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 18 برس کے دوران سندھ حکومت کو وفاق سے 22 ہزار ارب روپے ملے، تاہم اتنے بڑے فنڈز کے باوجود کراچی اور سندھ بدحالی کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو بااختیار بنانے سے پاکستان چلے گا اور شہر کو اختیارات و وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ ملکی معیشت میں مزید بڑا کردار ادا کرسکتا ہے۔

سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان اب کسی ایک طبقے کی جماعت نہیں بلکہ تمام مظلوم سندھیوں، مہاجروں، پختونوں، بلوچوں، پنجابیوں اور سرائیکیوں کی آواز بن چکی ہے۔ حکمران اب لسانیت کے نام پر عوام کو تقسیم کرکے حکومت نہیں کرسکتے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنما انیس قائم خانی نے کہا کہ لیاقت آباد سے شروع ہونے والی حقوق کی جدوجہد اب شاہ فیصل ٹاؤن سے ہوتی ہوئی کراچی کے ہر کونے تک جائے گی۔ احتجاج گلی محلوں سے نکل کر حکمرانوں کے گھروں تک پہنچے گا، کراچی کے عوام اب ظلم کے آگے خاموش نہیں رہیں گے۔

مرکزی رہنما و انچارج سی او سی فرقان اطیب نے کہا کہ شاہ فیصل ٹاؤن کے عوام کا جوش و جذبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ احتجاجی تحریک پورے کراچی میں پھیلے گی۔

رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے حکمرانوں نے صوبے کو عملاً کئی حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ ایک سندھ وہ ہے جہاں عوام صاف پانی، بنیادی سہولیات اور روزگار سے محروم ہیں، جبکہ دوسرا سندھ حکمرانوں کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مزید چار وزرائے اعلیٰ کی بادشاہت برداشت نہیں کرے گا۔

رکن قومی اسمبلی نجم مرزا نے کہا کہ یہ روایتی سیاسی جلسہ نہیں بلکہ ان ماؤں اور بہنوں کی آواز ہے جو گھروں میں پانی اور گیس کا انتظار کرتی ہیں۔ شاہ فیصل ٹاؤن سے شروع ہونے والی احتجاجی لہر اب پورے کراچی میں پھیلے گی۔

رکن سندھ اسمبلی شارق جمال نے کہا کہ لاڑکانہ کو کراچی بنانے کا دعویٰ کرنے والوں نے بدانتظامی کے باعث کراچی کو موئن جو دڑو بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی، علاج اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے عوام محروم ہیں اور مسائل کے حل کے لیے عوام کو اپنے گھروں سے نکلنا ہوگا۔

احتجاجی اجتماع میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ جلسہ گاہ اور اطراف کو پاکستانی اور ایم کیو ایم پاکستان کے پرچموں، احتجاجی بینرز اور نعروں سے سجایا گیا تھا۔ بینرز پر کراچی میں پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی، کراچی کے معاشی قتل کے خاتمے اور سندھ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔

اجتماع کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ سے ہوا، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنوں کا سید مصطفیٰ کمال کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں