صحافی تنظیمیں آزادیٔ صحافت کے دفاع کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں: حامد میر
اسلام آباد: سینئر صحافی، کالم نگار اور اینکر حامد میر نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحافت اپنی تاریخ کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک سے گزر رہی ہے، صحافیوں کے تحفظ اور پیشہ ورانہ ساکھ کو سنگین چیلنجز لاحق ہیں، اس صورتحال میں صحافی تنظیموں کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) کے اشتراک سے سینئر صحافیوں کے تجربات سے نوجوان صحافیوں کو روشناس کرانے کے لیے ’’صحافت بیتی‘‘ پروگرام منعقد ہوا۔ تقریب میں حامد میر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ نظامت کے فرائض این پی سی کے سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ نے انجام دیے۔
تقریب میں نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، حافظ طاہر خلیل، فارق اقدس، مطیع اللہ جان، ڈاکٹر عبدالودود قریشی، صغیر چوہدری، خاور نواز راجہ، آر آئی یو جے دستور کے صدر رانا کوثر علی، فنانس سیکرٹری رازق بھٹی سمیت سینئر صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب کے آغاز پر سینئر صحافی نواز رضا نے حامد میر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’’صحافت بیتی‘‘ کا مقصد ملک کے ممتاز صحافیوں کی پیشہ ورانہ جدوجہد، تجربات اور صحافتی سفر کو نئی نسل تک منتقل کرنا ہے۔
خطاب کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ پاکستان میں صحافت مختلف ادوار میں دباؤ کا شکار رہی ہے، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں بھی پابندیوں کا سامنا رہا، تاہم موجودہ دور اس لحاظ سے زیادہ پیچیدہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحافت کی ساکھ کو سب سے بڑا خطرہ غیر پیشہ ور افراد کی صحافت میں شمولیت سے لاحق ہے، ہر اینکر صحافی نہیں ہوتا، تاہم ہر صحافی اینکر بن سکتا ہے۔
حامد میر نے نیشنل پریس کلب کی موجودہ قیادت کی جانب سے بائیومیٹرک تصدیق کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ پریس کلبوں کو واضح معیار کے مطابق صحافیوں کی رجسٹریشن، بائیومیٹرک تصدیق اور پیشہ ورانہ شناخت کے نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ صحافت کی عزت اور وقار برقرار رہے۔
اپنے ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے حامد میر نے 2014 میں کراچی میں اپنے اوپر ہونے والے قاتلانہ حملے، مختلف ادوار میں عائد پابندیوں، صحافیوں کے اغوا اور قتل کے واقعات اور آزادیٔ صحافت کے لیے اپنی جدوجہد کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان پر حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کی رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں آ سکی۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت متعدد صحافیوں کو مختلف ذرائع ابلاغ سے ہٹا دیا گیا ہے یا انہیں اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ صحافی تنظیموں کو اس صورتحال پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے تاکہ آزادیٔ صحافت کا مؤثر دفاع کیا جا سکے۔
حامد میر نے کہا کہ صحافت کا بنیادی مقصد عوام کی آواز بننا ہے، اگر میڈیا غیر جانب داری، دیانت داری اور پیشہ ورانہ اخلاقیات پر قائم رہے گا تو عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔ صحافیوں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر صحافتی اصولوں کے مطابق کام کرنا چاہیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال نے کہا کہ سینئر صحافیوں کے تجربات سے نئی نسل کو مستفید کرنے کے لیے ’’صحافت بیتی‘‘ پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے کے انعقاد پر سینئر صحافی نواز رضا کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
عبدالرزاق سیال نے کہا کہ بائیومیٹرک نظام کے نفاذ سے صرف حقیقی اور رجسٹرڈ ممبران ہی پریس کلب میں داخل ہو سکیں گے، جبکہ نئی ممبرشپ میرٹ پر دی جائے گی اور کم از کم گریجویشن کی شرط پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
انہوں نے صحافیوں کو پیکا ایکٹ کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت اور اجلاسوں کی کارروائی سے بھی آگاہ کیا۔ صحافیوں کے رہائشی پلاٹوں کے معاملے پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ متعلقہ ادارے ایک ماہ کے اندر پلاٹ دینے کے پابند ہوں گے۔
صدر نیشنل پریس کلب نے کہا کہ صحافی برادری اتفاق و اتحاد سے اپنے تمام مسائل حل کر سکتی ہے۔ تمام صحافتی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر مضبوط اور متحد یونین تشکیل دینے کی کوشش کی جائے گی تاکہ صحافیوں کے حقوق کا مؤثر دفاع کیا جا سکے۔ انہوں نے صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے مختلف ورکشاپس کے انعقاد سے بھی آگاہ کیا۔
تقریب کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں حامد میر نے صحافتی ذمہ داریوں، آزادیٔ اظہار، صحافیوں کے تحفظ، ریاستی دباؤ، میڈیا کی تقسیم اور صحافی برادری کے اتحاد کی ضرورت سے متعلق سوالات کے جوابات دیے۔
آخر میں نیشنل پریس کلب کے سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا تقریب میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔