طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت ،مرکزی قیادت اور مقامی دھڑوں میں اختلافات نمایاں

*طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت ،مرکزی قیادت اور مقامی دھڑوں میں اختلافات نمایاں*

قابض افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان کے مختلف صوبوں میں آزادی پسند تحریکیں زور پکڑ گئیں

بدخشان میں چندماہ میں دوسرےضلعی گورنرکی ہٹ دھرمی پرمبنی برطرفی نےطالبان کےاندرونی خلفشارکوآشکارکردیا

*افغان میڈیا کے مطابق؛*
طالبان رجیم کیخلاف نئے مسلح گروہ سپاہیان میہن نے بدخشان کے ضلع یفتلی سفلی پرقبضہ کرکےاپنی موجودگی کا باضابطہ اعلان کر دیا

یہ گروہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنےوالےافراد پرمشتمل ہے جن میں سابق سیکیورٹی اہلکاراورمقامی باشندےشامل ہیں *، افغان میڈیا*

*ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل کی رپورٹ کے مطابق؛*
طالبان اور جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوئے،بدخشان میں ان کےحامیوں اورطالبان قیادت کےدرمیان کشیدگی برقرارہے

بدخشان میں اندرونی کشیدگی بھی عروج پر،ضلعی گورنرقاری مطیع الرحمان کوتقرری کےایک ہفتےبعدہی عہدے سےہٹا دیا گیا، *افغان میڈیا*

طالبان مخالف گروہوں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اورافغانستان فریڈم فرنٹ بھی بدخشاں سمیت افغانستان کے کئی صوبوں میں سرگرم ہیں، *افغان میڈیا*

افغان مزاحمتی تنظیم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نےایکس اکاونٹ پرمزاحمتی فورسزکی نئی ویڈیواپ لوڈکردی

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کےایکس پراپ لوڈ ویڈیومیں طالبان مخالف فورسزکواہم علاقےمیں گشت کرتےہوئےدیکھاجاسکتا ہے

*عالمی ماہرین کے مطابق؛*
افغانستان میں بڑھتی آزادی پسند تحریکیں واضح ثبوت ہیں کہ افغان عوام طالبان کی بدترین رجیم سے تنگ آچکے ہیں

*صوبہ بدخشان میں گورنرکی اچانک تبدیلی طالبان کی مرکزی قیادت اورمقامی دھڑوں کےدرمیان اعتماد کےفقدان اور اندرونی اختلافات کیعکاسی کرتی ہے،ماہرین*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں