پی ٹی وی کا بزنس پلان مانگنا جرم نہیں، ادارہ چار سال سے ایڈہاک بنیادوں پر چل رہا ہے، سحر کامران
اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس سے رکنِ قومی اسمبلی سحر کامران احتجاجاً واک آؤٹ کر گئیں۔
اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے سحر کامران نے کہا کہ اگر وہ اداروں سے مشکل سوال کرتی ہیں یا کسی اچھے کام کی تعریف کرتی ہیں تو وہ بھی ادارے کی بہتری کے تناظر میں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس انداز میں ان سے بات کی گئی، وہ ان کی توہین تھی، اور اگر وزیر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ وزیر ہونے کی وجہ سے اونچی آواز میں بات کر سکتے ہیں تو یہ مناسب رویہ نہیں۔
سحر کامران نے کہا کہ وہ 2024 سے مسلسل مطالبہ کر رہی ہیں کہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے لیے ایک پائیدار (Sustainable) بزنس پلان پیش کیا جائے، لیکن آج تک ایسا کوئی منصوبہ فراہم نہیں کیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پی ٹی وی کا بزنس پلان مانگنا جرم ہے؟ ان کے مطابق ادارہ گزشتہ چار سال سے ایڈہاک بنیادوں پر چل رہا ہے، نہ مستقل منیجنگ ڈائریکٹر تعینات کیا گیا اور نہ ہی بورڈ کا مستقل چیئرمین مقرر کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ادارے کے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے ایچ آر میں نئی تقرریوں کا ذکر کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ ایک رکنِ قومی اسمبلی کے شوہر کو ایچ آر کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ سحر کامران نے واضح کیا کہ ان کی تنقید کسی فرد کی ذات پر نہیں بلکہ ادارے کے انتظامی امور اور پائیدار اصلاحات نہ ہونے پر ہے۔