اٹک: مرکزی جامع مسجد کے معاملے پر نمازیوں کا ڈی پی او سے رابطہ، جمعہ کی نماز معمول کے مطابق ادا کرانے کی یقین دہانی
ا اٹک شہر کے قبرستانوں، مرکزی جامع مسجد اٹک، مرکزی عید گاہ، منظور الٰہی دارالشفقت (یتیم خانہ) اور دیگر قیمتی جائیدادوں کی نگرانی کرنے والے ادارے انجمن اسلامیہ کے عہدیداران اور ڈسٹرکٹ خطیب و امام مرکزی جامع مسجد اٹک، مفتی محمد مسعود احمد، کے درمیان طویل عرصے سے جاری اختلافات نے نئی شدت اختیار کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق انجمن اسلامیہ کے ایک اجلاس میں مفتی محمد مسعود احمد سمیت چار افراد کو ان کے عہدوں سے فارغ کرنے، سرکاری رہائش گاہیں خالی کرنے اور مفتی محمد مسعود احمد کو مرکزی جامع مسجد میں امامت سے روکنے کے فیصلے کیے گئے۔
اس پیش رفت کے بعد بدھ کے روز مرکزی جامع مسجد اٹک کے نمازیوں نے نمازِ ظہر کے بعد پرامن واک کرتے ہوئے ڈی پی او آفس کا رخ کیا، جہاں انہوں نے ڈی پی او اٹک سردار موارہن خان سے ملاقات کی۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور وفد نے ڈی پی او کی انتظامی صلاحیتوں کو سراہا۔
ملاقات کے دوران وفد کو یقین دہانی کرائی گئی کہ جمعہ کی نماز معمول کے مطابق ادا کی جائے گی۔ بتایا گیا کہ جمعہ کا خطبہ اور نماز مسجد کے قاری، قاری ہدایت اللہ، ہی پڑھائیں گے، جبکہ کسی بیرونی خطیب کو مدعو نہیں کیا جائے گا۔ دیگر معاملات قانون اور ضابطے کے مطابق حل کیے جائیں گے۔
ڈسٹرکٹ خطیب مفتی محمد مسعود احمد نے شہریوں اور مسجد کے نمازیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں، صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور معاملے کے قانونی حل تک نظم و ضبط برقرار رکھیں۔