ریحان طارق کیس: عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، ضمانت کی درخواست پر 16 جولائی کو سماعت

ریحان طارق کیس: عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، ضمانت کی درخواست پر 16 جولائی کو سماعت

اسلام آباد: اینکر پرسن ریحان طارق کو متنازع سوال سے متعلق درج مقدمے میں 6 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، جبکہ ان کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست بھی دائر کر دی گئی ہے، جس پر 16 جولائی کو حتمی دلائل ہوں گے۔

ریحان طارق کی قانونی ٹیم کے مطابق جسمانی ریمانڈ کے دوران انہوں نے مختلف جید علماء کرام کے فتاویٰ اور قانونی نکات تفتیشی ادارے اور عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنوائے۔ وکلاء کا مؤقف ہے کہ مفتی عمران حنفی، مفتی حنیف قریشی، مفتی طارق مسعود، مفتی نعیم اشرف بٹ سمیت دیگر علماء نے اپنی آراء میں کہا کہ ریحان طارق کی جانب سے سوال پوچھنا بے ادبی کے زمرے میں نہیں آتا۔

قانونی ٹیم کے مطابق سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں مذہبی اور مسلکی نوعیت کے مقدمات میں علماء کی رائے کو ملحوظِ خاطر رکھا جانا چاہیے، اور انہی عدالتی نظائر کی بنیاد پر متعلقہ فتاویٰ بھی ریکارڈ کا حصہ بنائے گئے۔

وکلاء نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ فتاویٰ کے بعد تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 295-A، 298، 153-A اور پیکا ایکٹ کی دفعہ 11 سمیت دیگر الزامات ختم ہو جانے چاہییں تھے، تاہم ان کے بقول NCCIA نے مقدمہ خارج کرنے کے بجائے عدالت سے جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی، جسے منظور کر لیا گیا۔

اب ریحان طارق کی ضمانت کی درخواست پر 16 جولائی کو عدالت میں حتمی بحث ہوگی، جس کے بعد درخواست پر فیصلہ متوقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں