وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ سے متعلق سپریم کورٹ کے 21 اگست 2024 کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اس نوعیت کے تنازع میں دیا گیا

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ سے متعلق سپریم کورٹ کے 21 اگست 2024 کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اس نوعیت کے تنازع میں دیا گیا سابقہ فیصلہ قانونی طور پر درست نہیں تھا۔ جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں قائم بینچ نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (MCI) کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے معاملہ قانون کے مطابق متعلقہ فورمز کو بھجوا دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ زمین کی ملکیت کے تنازع کا فیصلہ متعلقہ ٹرائل کورٹ کرے گی، جبکہ انتظامی اور ریگولیٹری معاملات متعلقہ ادارے قانون کے مطابق نمٹائیں گے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 21 اگست 2024 کو مونال سمیت مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں قائم بعض تعمیرات کو مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔

فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف صحافیوں، قانونی ماہرین اور تبصرہ نگاروں کی جانب سے متنوع آراء سامنے آئیں۔

سینئر صحافی حامد میر نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ قاضی فائز عیسیٰ پر ریفرنس بنانے والوں کو بھی اس فیصلے سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور تاریخ میں کوئی فیصلہ ہمیشہ کے لیے حرفِ آخر نہیں ہوتا۔

صحافی ساقب بشیر نے لکھا کہ مونال کیس میں جسٹس حسن اظہر رضوی کے ساتھ بیٹھے بینچ کے دیگر ججز بھی 2024 کے فیصلے کا حصہ تھے، تاہم آج اسی بینچ نے سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ “مفادات کا ٹکراؤ” ہر معاملے میں یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

سینئر صحافی نوید چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جو فیصلہ دیا تھا، وفاقی آئینی عدالت نے اسے برقرار نہیں رکھا۔ ان کے مطابق اب اس فیصلے سے متعلق قانونی اور دستاویزی شواہد کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا اور معاملہ قانون کے مطابق آگے بڑھے گا۔

واضح رہے کہ یہ تبصرے متعلقہ شخصیات کی ذاتی آراء ہیں اور ان سے عدالت کے فیصلے کی قانونی حیثیت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔
‏بریکنگ: وفاقی آئینی عدالت نے پیرسوہاہ مونال ریسٹورنٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم کردیا
‏فیصلہ پڑھا تو اندازہ ہوا بہت کچھ عدالتی کاروائی سے باہر کا لکھا گیا: جسٹس حسن رضوی
‏عدالت نے سی ڈی اے اور میٹرو پولیٹن سٹی کی اپیلیں منظور کرلی
‏عدالت نے حکم امتناعی بھی ختم کردیا

‏ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بہت سے نکات کو مد نظر نہیں رکھا گیا،جسٹس حسن رضوی

‏کیس دائر کرنے یا نظر ثانی دائر کرنے پر بھی عدالت نے غصہ کیا، جسٹس رضوی

‏فیصلہ میں وہ کچھ لکھا گیا جس کا فسانہ میں ذکر نہ تھا، جسٹس حسن رضوی

‏ہم نے جذباتی فیصلہ نہیں کرنا جسٹس حسن رضوی
‏عدالت نے کیس کو بہت اچھا پڑھا ہے،وکیل احسن بھون

‏عدالت میں ہماری تعریفیں نہ کریں جسٹس حسن اظہر رضوی

‏جو سماعت ہوئی وہی حکم دیں گے جسٹس حسن اظہر رضوی

‏الف لیلی کی کہانی فیصلہ میں نہیں لکھیں گے جسٹس حسن اظہر رضوی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں