سید منور حسن کی یاد میں
سابق امیر جماعتِ اسلامی، سید منور حسن کو ہم سے بچھڑے آج چھ برس گزر چکے ہیں، مگر ان کی یادیں، افکار اور جدوجہد آج بھی دلوں میں تازہ ہیں۔ اس موقع پر ہم نے ان کی شخصیت اور خدمات پر ایک تفصیلی تحریر لکھی تھی۔ 6 سال پہلے کی تحریر سے ایک منتخب اقتباس، ان کی یاد میں، نذرِ قارئین ہے۔
“ ہمارے سامنے 56 سال پہلے کے کراچی کا منظر سامنے آتا ہے، ہمیں کراچی آئے چوتھا سال گزر رہا ہے۔ہمارا قیام کیماڑی میں ہے،ہم اردو کالج میں انٹر سال دوم کے طالب علم ہیں اور کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ملازمت کرتے ہیں۔ ہم جماعت اسلامی کیماڑی کے کارکن بھی ہیں کہ ایک صبح جامع مسجد کیماڑی کی لائبریری میں اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل میاں طفیل محمد کا ایک بیان پڑھتے ہیں جو اس وقت کے وزیر داخلہ حبیب اللہ خان کے ایک الزام کے جواب میں تھا کہ کو ئی طالب علم اور سرکاری ملازم جماعت کا رکن یا کارکن نہیں ہے۔وزیر داخلہ نے الزام لگایا تھا کہ لاہور کے ریلوے اسٹیشن اور لاہور یونیورسٹی میں جو دو جھگڑے ہوئے ہیں ان میں جماعت اسلامی کے لوگ ملوث ہیں۔ان کے خلاف کاروائی ہوگی۔ان کا یہ بیان ہمیں تشویش میں مبتلا کرتا ہے کیوں کہ ہم کیماڑی کے چند طلبہ جماعت کے کارکن تھے اور ہمارے ناظم حلقہ آرام گاہ سید محمودالحسن واسطی سرکاری محکمہ ریلوے کے اعلی افسر اور رکن بھی تھے۔ان کا دفتر اتفاق سے کیماڑی میں بندر گاہ کے اندر گودی نمبر ۱۰ پر تھا۔ ہم ان کے پاس دوڑے دوڑے جاتے ہیں اور یہ معاملہ ان کے سامنے رکھتے ہیں، وہ اس کی سنگینی کو محسوس کرتے ہیں اور اسی دن شام کو امیر جماعت اسلامی کراچی چوہدری غلام محمد کے پاس چلنے کا کہتے ہیں۔ ہم دونوں اور وہ طلبہ بھی شام کو صادق منزل آرام باغ میں جماعت کے دفتر میں چوہدری صاحب سے ملتے ہیں۔ وہ ناظم حلقہ آرام باغ واسطی صاحب سے استعفی لیتے ہیں اور ہمیں پیار بھری ڈانٹ پلاتے ہوئے کہتے ہیں “ تمہارا جماعت میں کیا کام؟ تم طالب علم ہو ، جمیعت میں کام کرو،ابھی جاؤ اور منور حسن سے ملو جو اس کے ناظم ہیں اور وہ ہمیں ۲۳ اسٹریچن روڈ پر جمیعت کے دفتر کا پتہ سمجھاتے ہیں کہ این ای ڈی کالج کے سامنے ہے۔ہم وہاں سے روانہ ہو جاتے ہیں، فاصلہ زیادہ نہیں ہے، ہم پیدل ہی پتہ پوچھتے پاچھتے دس منٹ کے اندر جمیعت کے دفتر پہنچتے ہیں، دفترمیں داخل ہوتے ہی ایک دبلے پتلے خوب صورت نوجوان سے منور صاحب کا پوچھتے ہیں کہ ان سے ملنا ہے۔اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آجاتی ہے۔وہ پوچھتا ہے کیوں ملنا ہے ؟ ہم بتاتے ہیں ہم اردو کالج کے طالب علم ہیں اور چوہدری غلام محمد نے بھیجا ہے۔ چودھری صاحب کانام سن کر چہرے پر ہلکی مسکراہٹ آجاتی ہے اور رویئے میں بھی نرمی آجاتی ہے۔وہ نوجوان اشارے سے اندر دفتر میں آنے کا کہتا ہے اورکمرے میں میز کے سامنے ایک کرسی پر خود بیٹھ جاتا ہے اور خوش آمدید کہتے ہوئے سامنے کی کرسی پر ہمیں بیٹھنے کا کہتا ہے۔پھر اچانک کہتاہے کہ “ میں ہی منور حسن ہوں۔اب تفصیل سے بتاؤ کہ آپ کو چوہدری صاحب نے کیوں بھیجا ؟ “ یہ تھی سید منور حسن سے ہماری پہلی ملاقات اب ان کا انداز اچانک بدل گیا تھا۔وہ غور سے ہماری بات سن رہے تھے۔ہم ان کو پوری تفصیل بتاتے ہیں کہ ہم جماعت اسلامی کیماڑی کے کارکن تھے اوراردو کالج میں پڑھتے بھی ہیں۔ میاں طفیل محمد کا اخبار میں بیان پڑھا کہ طالب علم اورسرکاری ملازم جماعت کے کارکن یا رکن نہیں بن سکتے۔ہم اپنے ناظم واسطی صاحب کے ساتھ چوہدری صاحب کے پاس آئے۔ انہوں نے ہماری بات سن کر ہمیں جمیعت میں کام کے لئے آپ کے پاس بھیجا ہے۔یہ ہماری سید منور حسن سے پہلی ملاقات تھی۔اس کے بعد جمیعت کا یہ دفتر ہمارا دوسرا گھر اور منور بھائی سے ہمارے تعلقات حقیقی بھائیوں سے بھی بڑھ کر عقیدت و محبت کے ایسے رشتوں میں بدل گئے کہ ہمیشہ قائم رہے۔ ہمارا سید سے یہ تعلق مسلسل ۵۶ برسوں تک قائم رہا اوران میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا۔”

عارف الحق عارف
۲۶ جون ۲۰۲۶
فالسم ( کیلیفورنیا۔امریکہ)