جڑواں شہروں کے فکری معمار اور صحافت و سیاست کے درخشاں ستارے

تحریر: لطیف شاہ

اسلام آباد اور راولپنڈی، جنہیں جڑواں شہر کہا جاتا ہے، محض دو جغرافیائی اکائیاں نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی، صحافتی، علمی اور فکری تاریخ کے اہم مراکز بھی ہیں۔ ان شہروں نے ایسے نامور افراد کو جنم دیا یا ان کی میزبانی کی جنہوں نے اپنے قلم، فکر، علم اور کردار سے نہ صرف قومی زندگی کو متاثر کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشن مثالیں قائم کیں۔ ان شخصیات میں پروفیسر فتح محمد ملک، طارق وارثی، راجہ ظفر الحق، زاہد ملک اور شورش ملک کے نام خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

پروفیسر فتح محمد ملک: علم و فکر کے امین

پروفیسر فتح محمد ملک پاکستان کے ان معدودے چند دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، تحقیق، تدریس اور قومی شعور کی بیداری کے لیے وقف کر دی۔ ان کے عملی سفر کا آغاز صحافت سے ہوا۔ راولپنڈی کے معروف روزنامہ “تعمیر” میں انہوں نے صحافتی زندگی کا آغاز کیا، جہاں انہیں منو بھائی، شفقت تنویر مرزا، شورش ملک، بشیر السلام عثمانی اور عابد حسن منٹو جیسی عظیم شخصیات کی رفاقت حاصل رہی۔

صحافت کے بعد انہوں نے تدریس اور تحقیق کو اپنی زندگی کا مستقل میدان بنایا۔ اصغر مال کالج راولپنڈی سے تدریسی خدمات کا آغاز کرنے والے فتح محمد ملک بعدازاں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد، کولمبیا یونیورسٹی امریکہ، ہائیڈل برگ یونیورسٹی جرمنی اور اقبال چیئر سمیت متعدد عالمی علمی اداروں سے وابستہ رہے۔ ان کی علمی قابلیت اور انتظامی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں مقتدرہ قومی زبان کا چیئرمین اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا ریکٹر مقرر کیا گیا۔

فکری اور سیاسی میدان میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔ وہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد حنیف رامے کے مشیر رہے جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی فکری و نظریاتی ٹیم کے اہم رکن بھی رہے۔ تاہم ان کی اصل شناخت ایک ایسے محقق اور دانشور کی ہے جس نے علامہ اقبال کی فکر اور تحریک پاکستان کے نظریاتی پس منظر کو نئی نسل تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارۂ امتیاز اور ہلالِ امتیاز جیسے اعلیٰ سول اعزازات سے نوازا۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن، اکادمی ادبیات پاکستان اور مقتدرہ قومی زبان جیسے اداروں کی سربراہی کرتے ہوئے انہوں نے معیاری کتب کی اشاعت، اردو زبان کے فروغ اور قومی علمی روایت کے استحکام کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔

ان کے صاحبزادے اور جامعہ نمل کے ممتاز استاد طاہر ملک کے الفاظ میں:

“90 برس کی عمر میں بھی والد محترم کا مطالعہ اور تحقیق ایک دن کے لیے بھی ناغہ نہیں ہوئی۔ ایک عام انسان جتنی محنت تین زندگیاں گزار کر کرتا ہے، میرے والد نے وہ ایک ہی زندگی میں کر دکھائی۔”

یہ الفاظ درحقیقت پروفیسر فتح محمد ملک کی پوری زندگی کا خلاصہ ہیں۔

طارق وارثی: عوامی صحافت کے علمبردار

جڑواں شہروں کی صحافت میں اگر ورکنگ کلاس اور متوسط طبقے کی نمائندگی کا ذکر ہو تو طارق وارثی کا نام نمایاں نظر آتا ہے۔ انہوں نے صحافت کو اشرافیہ کے ڈرائنگ رومز سے نکال کر عام آدمی کی آواز بنایا۔ ان کی سب سے بڑی خدمت زرد صحافت کے خلاف مسلسل جدوجہد اور صحافتی اخلاقیات کے فروغ کے لیے انتھک کوششیں ہیں۔

راولپنڈی پریس کلب کے پلیٹ فارم سے انہوں نے صحافیوں کے حقوق، آزادی اظہار اور پیشہ ورانہ وقار کے لیے کئی تاریخی تحریکوں کی قیادت کی۔ ان کی تحریروں نے مقامی مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کیا اور بلدیاتی معاملات کو اس انداز میں پیش کیا کہ حکومتی اور مقتدر حلقے بھی انہیں نظرانداز نہ کر سکے۔

طارق وارثی نے ہمیشہ صحافت کو عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھا اور کمرشل ازم کے مقابلے میں پیشہ ورانہ اصولوں کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں راولپنڈی کی صحافت میں ایک مصلح اور رہنما کی حیثیت حاصل ہے۔

راجہ ظفر الحق: امامِ سیاست

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں راجہ ظفر الحق ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں تقریباً ہر سیاسی مکتبہ فکر عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کی شرافت، بردباری، دیانت داری اور سیاسی بصیرت نے انہیں “امامِ سیاست” کا مقام عطا کیا۔

ان کی بین الاقوامی سطح پر سب سے بڑی کامیابی مکہ مکرمہ میں قائم مسلم دنیا کی اہم تنظیم رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل منتخب ہونا تھا۔ اس منصب نے پاکستان کی فکری اور سفارتی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔

بطور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات انہوں نے میڈیا اور ریاست کے تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی اور صحافت کے لیے نسبتاً آزاد فضا کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا وسیع مطالعہ اور علمی شخصیات سے قربت انہیں دیگر سیاست دانوں سے ممتاز بناتی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ دانشوروں، صحافیوں اور اہلِ قلم کی سرپرستی کی اور اسلام آباد کے فکری ماحول کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

زاہد ملک: نظریاتی صحافت کے معمار

زاہد ملک مرحوم پاکستان کی انگریزی صحافت کا ایک معتبر نام تھے۔ روزنامہ “پاکستان آبزرور” کے بانی کی حیثیت سے انہوں نے قومی مفادات، دفاعی پالیسیوں اور نظریہ پاکستان کے فروغ کے لیے جرات مندانہ صحافت کی۔

ان کا سب سے بڑا کارنامہ اسلام آباد میں نظریہ پاکستان کونسل کا قیام ہے، جو کئی دہائیوں تک فکری و نظریاتی مباحث کا اہم مرکز رہی۔ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے مضبوط حامی تھے اور انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی اور پاکستان کے دفاعی سفر پر مستند کتاب تحریر کرکے عالمی سطح پر پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے کا جواب دیا۔

ان کی دینی خدمات بھی غیرمعمولی ہیں۔ “مضامینِ قرآن” جیسی اہم تصنیف ان کی علمی بصیرت کا شاہکار ہے، جس میں قرآن کریم کی آیات کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا گیا۔ یہ کتاب دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر لاکھوں قارئین تک پہنچ چکی ہے۔

شورش ملک: جراتِ اظہار کی علامت

شورش ملک مرحوم راولپنڈی کی صحافت کا وہ روشن باب ہیں جسے جرات، حق گوئی اور عوام دوستی کے بغیر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ہمیشہ محروم اور کمزور طبقات کی نمائندگی کی اور اپنی بے باک تحریروں کے ذریعے طاقتور حلقوں کو جواب دہ بنانے کی کوشش کی۔

راولپنڈی اور اسلام آباد کی کچی آبادیوں، غریب بستیوں اور بے زمین افراد کے حقوق کے لیے ان کی صحافتی جدوجہد آج بھی یاد کی جاتی ہے۔ ان کی تحریریں انتظامیہ اور حکومت کے لیے ایک مؤثر عوامی احتساب کا ذریعہ تھیں۔

شورش ملک اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والے صحافی تھے۔ دباؤ، دھمکیوں اور مشکلات کے باوجود انہوں نے قلم کی حرمت کو برقرار رکھا۔ راولپنڈی پریس کلب میں ان کی موجودگی ایک فکری قوت سمجھی جاتی تھی۔ پروفیسر فتح محمد ملک، زاہد ملک اور طارق وارثی کے ساتھ ان کی فکری نشستیں اور مباحث جڑواں شہروں کی صحافتی اور ادبی تاریخ کا یادگار حصہ ہیں۔

اختتامیہ

جڑواں شہروں کی تاریخ ایسے لوگوں سے عبارت ہے جنہوں نے اپنے کردار، علم، قلم اور فکر سے معاشرے کی تشکیل میں حصہ لیا۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے علم و دانش کی شمع روشن کی، طارق وارثی نے عوامی صحافت کو نئی سمت دی، راجہ ظفر الحق نے سیاست میں شائستگی اور وقار کی روایت قائم کی، زاہد ملک نے نظریاتی صحافت کو استحکام بخشا اور شورش ملک نے حق گوئی اور عوامی نمائندگی کا علم بلند رکھا۔

یہ شخصیات صرف افراد نہیں بلکہ ایک فکری روایت، ایک عہد اور ایک نظریاتی تسلسل کی نمائندہ ہیں۔ ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور جڑواں شہروں کی علمی، صحافتی اور سیاسی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے یاد رکھی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں