یہ مواد خبر کی صورت میں اس انداز سے پیش کیا جا سکتا ہے:
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باوجود آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد حکومتی فیصلے پر مختلف حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 299.50 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 311.47 روپے فی لیٹر برقرار رہے گی۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کے روز بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 2.65 ڈالر کمی کے بعد 69.27 ڈالر فی بیرل، برینٹ کروڈ 3.03 ڈالر کمی کے بعد 72.23 ڈالر فی بیرل جبکہ مربن خام تیل 2.76 ڈالر کمی کے بعد 66.30 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
ذرائع کے مطابق عالمی قیمتوں میں کمی کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 40 روپے فی لیٹر تک کمی کی تجویز بھی وزیراعظم کو بھجوائی گئی تھی، تاہم حکومت نے موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے قیمتوں میں کمی کے خلاف اپنا مؤقف حکومت کے سامنے رکھا، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب ماضی میں عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرول مہنگا کیا گیا تو کمپنیوں کی جانب سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا، لیکن اب عالمی منڈی میں کمی کے باوجود صارفین کو اس کا مکمل فائدہ نہیں دیا جا رہا۔
حکومتی فیصلے کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف عوامی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں صارفین کا مطالبہ ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہو رہا ہے تو اس کا براہِ راست ریلیف پاکستانی عوام تک بھی پہنچنا چاہیے۔
واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا حتمی فیصلہ وفاقی حکومت مختلف عوامل، جن میں عالمی قیمتیں، شرح مبادلہ، ٹیکسز اور پیٹرولیم لیوی شامل ہیں، کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتی ہے۔