قادو مکرانی: ڈاکو، باغی یا آزادی کا سپاہی؟

قادو مکرانی: ڈاکو، باغی یا آزادی کا سپاہی؟

تاریخ کے صفحات میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں حکمران اور طاقتور حلقے مجرم قرار دیتے ہیں، جبکہ عوام انہیں اپنا ہیرو، محافظ اور نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ بلوچستان کے علاقے مکران سے تعلق رکھنے والے قادر بخش بلوچ المعروف “قادو مکرانی” بھی ایسی ہی ایک متنازع مگر غیر معمولی شخصیت تھے جن کا نام آج بھی سندھ، بلوچستان اور کاٹھیاواڑ کے لوک قصوں، داستانوں اور گیتوں میں زندہ ہے۔

مکران سے جونا گڑھ تک

قادو مکرانی کا اصل نام قادر بخش بلوچ تھا۔ ان کی پیدائش بلوچستان کے علاقے مکران کے قصبے خواش میں ہوئی۔ ان کا تعلق بلوچوں کے معروف رند قبیلے سے تھا۔ انیسویں صدی میں بلوچستان میں قحط سالی، معاشی مشکلات اور انگریزوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث ہزاروں خاندانوں کی طرح قادر بخش کا خاندان بھی نقل مکانی پر مجبور ہوا اور جونا گڑھ جا آباد ہوا۔

یہ وہ دور تھا جب برصغیر کے مختلف علاقوں میں انگریز اقتدار کے خلاف بے چینی بڑھ رہی تھی۔ مقامی آبادی اور نوابوں کے درمیان کشیدگی بھی موجود تھی۔ انہی حالات میں قادر بخش نے اپنی ایک الگ شناخت بنائی اور جلد ہی “قادو مکرانی” کے نام سے مشہور ہو گئے۔

ناک کاٹنے کی روایت اور خوف کی علامت

روایت ہے کہ جونا گڑھ کی ایک گلی میں قادو مکرانی نے ایک شخص کی ناک کاٹ دی۔ بعد ازاں یہی عمل ان کی پہچان بن گیا۔ انگریز دور میں مخبروں اور غداروں کی سزا کے طور پر ناک کاٹنے کو ایک علامتی کارروائی سمجھا جاتا تھا۔

انگریز افسر جانسن نے اپنی کتاب “کاٹھیاواڑ کے باغی” میں دعویٰ کیا کہ قادو مکرانی نے جونا گڑھ کے آٹھ دیہات لوٹے، 71 تاجروں کو قتل کیا اور 89 افراد کی ناکیں کاٹیں۔ اگرچہ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے، تاہم اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انگریز انتظامیہ انہیں کس قدر خطرناک سمجھتی تھی۔

دوسری جانب مقامی لوگوں کے نزدیک قادو مکرانی ظلم کے خلاف مزاحمت کی علامت تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ امیروں سے مال چھین کر غریبوں میں تقسیم کرتے تھے۔ اسی وجہ سے لوگ انہیں “ان داتا” کہہ کر پکارتے تھے۔

لوک داستانوں کا ہیرو

قادو مکرانی کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گجراتی اور سندھی لوک ادب میں ان کے بارے میں متعدد گیت اور اشعار آج بھی موجود ہیں۔

گجراتی شاعری میں ان کے حوالے سے کہا گیا:

“کومڈنوں کانٹوں کر لی ھیتے مانڈیو باٹ،
ایک پیسہ نا آٹھ قادو نے نالج کریا”

یعنی دشمنوں کی ناک کاٹنے کے لیے اس نے اپنی تلوار کو قینچی بنا لیا ہے اور گویا ناکوں کی ایک دکان کھول رکھی ہے جہاں ایک پیسے میں آٹھ ناکیں ملتی ہیں۔

یہ شاعری اس بات کی عکاس ہے کہ قادو مکرانی کی شخصیت خوف اور مزاحمت دونوں کی علامت بن چکی تھی۔

قادو مکرانی اور ایک سرجن کی کہانی

تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ قادو مکرانی کی کارروائیوں نے ایک غریب ڈاکٹر کو پلاسٹک سرجری کا ماہر بنا دیا۔

جونا گڑھ کے ڈاکٹر تھرونداس نے ان افراد کی ناکوں کی بحالی کے لیے سرجری کا کام شروع کیا جن کی ناکیں کاٹی گئی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں تقریباً تین سو افراد کی ناکوں کی کامیاب سرجری کی۔

پلاسٹک سرجری کی تاریخ پر لکھی گئی کتابوں میں بھی ڈاکٹر تھرونداس کا ذکر ملتا ہے۔ یوں ایک باغی کی سرگرمیوں نے بالواسطہ طور پر ایک مقامی طبیب کو اپنے شعبے میں مہارت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔

انگریزوں کی نظر میں باغی

انگریز حکومت کے لیے قادو مکرانی ایک خطرناک باغی اور مطلوب شخص تھے۔ ان کی گرفتاری کے لیے زندہ یا مردہ انعام مقرر کیا گیا۔

جب حالات مزید سخت ہوئے تو دوستوں نے انہیں مکران واپس جانے کا مشورہ دیا۔ تاہم ان کے اہل خانہ کراچی کے علاقے لیاری میں مقیم تھے اور وہ انہیں ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔

لیاری میں گرفتاری

سندھ کے معروف محقق اور مورخ گل حسن کلمتی کے مطابق قادو مکرانی کراچی شہر سے زیادہ واقف نہیں تھے۔ لیاری پہنچنے کے لیے انہوں نے ایک اونٹ کرائے پر لیا۔ اونٹ بان نے انہیں پہچان لیا اور بغدادی تھانے کے قریب پولیس کو اطلاع دے دی۔

جب وہ ایک سپاہی کے ساتھ واپس آیا تو قادو مکرانی صورتحال سمجھ گئے۔ انہوں نے خنجر سے حملہ کر کے دونوں کو ہلاک کر دیا اور فرار ہونے کی کوشش کی۔

مگر کراچی کی گلیاں ان کے لیے اجنبی تھیں۔ پولیس نے تعاقب کیا اور گل محمد لین میں ایک مزدور نے ان کے سر پر اینٹ دے ماری جس سے وہ زخمی ہو کر گرفتار ہو گئے۔

بعد ازاں ان کے ساتھی الھداد اور دین محمد بھی گرفتار کر لیے گئے۔ دونوں کو جونا گڑھ میں سزائے موت دی گئی جبکہ قادو مکرانی کو 1887ء میں کراچی سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

میوہ شاہ قبرستان میں آخری آرام گاہ

گل حسن کلمتی کے مطابق قادو مکرانی کی میت لیاری کی معروف شخصیت واجہ فقیر محمد دراخان نے وصول کی۔ ان کی نماز جنازہ درا لین مسجد میں ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

بعد ازاں انہیں کراچی کے تاریخی میوہ شاہ قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ ان کی قبر پر لوگوں کی بڑھتی ہوئی آمد کے باعث انگریز حکومت نے وہاں نگرانی سخت کر دی تھی۔ قبر کے قریب ایک پتھر بھی موجود ہے جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہی وہ اینٹ ہے جس نے ان کی گرفتاری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

فلموں اور ادب میں قادو مکرانی

قادو مکرانی کی زندگی پر مختلف زبانوں میں کتابیں لکھی گئیں اور فلمیں بنائی گئیں۔ پاکستان میں بننے والی معروف فلم “جاگ اٹھا انسان” بھی انہی کی زندگی سے متاثر تھی جس میں مرکزی کردار اداکار محمد علی نے ادا کیا۔

یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قادو مکرانی محض ایک تاریخی کردار نہیں بلکہ ایک ثقافتی اور عوامی علامت بھی بن چکے ہیں۔

ہیرو یا مجرم؟

قادو مکرانی کی شخصیت آج بھی بحث کا موضوع ہے۔ انگریز سرکاری ریکارڈ انہیں ڈاکو، قاتل اور باغی قرار دیتا ہے جبکہ عوامی روایات میں وہ ایک ایسے شخص کے طور پر زندہ ہیں جس نے طاقتور طبقوں اور نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت کی۔

تاریخ اکثر فاتحین لکھتے ہیں، اسی لیے ایک ہی شخص مختلف زاویوں سے مختلف نظر آتا ہے۔ قادو مکرانی بھی انہی کرداروں میں شامل ہیں جنہیں کچھ لوگ مجرم اور کچھ لوگ آزادی اور مزاحمت کا استعارہ سمجھتے ہیں۔

یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ برصغیر کی تاریخ میں قادو مکرانی، روپلو کولہی، ہیموں کالانی، بھگت سنگھ، چاکر خان کلمتی اور دیگر مقامی مزاحمتی شخصیات کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ مستحق سمجھے جاتے ہیں۔ ان شخصیات کے بارے میں تحقیق اور غیر جانبدار مطالعہ ہماری تاریخ کے بہت سے پوشیدہ پہلوؤں کو سامنے لا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں