کالعدم JK-JAAC کی ہڑتال اور احتجاجی تحریک بدستور جاری مظفرآباد میں آج شٹر ڈاؤن ہڑتال کا بارہواں روز ہے،

مظفرآباد/راولاکوٹ (20 جون 2026)

آزاد جموں و کشمیر میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JK-JAAC) کی ہڑتال اور احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔ دارالحکومت مظفرآباد میں آج شٹر ڈاؤن ہڑتال کا بارہواں روز ہے، جس کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہیں جبکہ مختلف اضلاع میں احتجاجی سرگرمیوں اور دھرنوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق مظفرآباد شہر میں بیشتر کاروباری مراکز، مارکیٹیں اور تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہیں۔ تاہم عوامی ضروریات کے پیش نظر سبزی و فروٹ کی چند دکانیں، بیکریز اور بعض میڈیکل سٹورز جزوی طور پر کھلے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب بینکنگ سروسز، پٹرول پمپس، پبلک ٹرانسپورٹ اور متعدد سرکاری و نجی اداروں کی سرگرمیاں تاحال معطل ہیں جبکہ انٹرنیٹ سروس کی بندش سے شہریوں، طلبہ اور کاروباری حلقوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

شہر میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی نفری اپنی مقررہ جگہوں پر موجود ہے، تاہم گزشتہ دنوں کے مقابلے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔ مرکزی شاہراہوں اور بازاروں میں ٹریفک معمول سے کہیں کم ہے جبکہ شہری غیر یقینی صورتحال کے باعث گھروں تک محدود رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ادھر ضلع پونچھ کے مرکزی شہر راولاکوٹ میں احتجاجی مظاہرین کا دھرنا مسلسل جاری ہے۔ مظاہرین نے حکومت کے حالیہ اقدامات، چوتھی شیڈول میں ناموں کی شمولیت اور عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندیوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ راولاکوٹ اور دیگر علاقوں میں احتجاجی قیادت کا مؤقف ہے کہ مطالبات کی منظوری تک تحریک جاری رکھی جائے گی۔

سیاسی حلقوں میں گزشتہ رات یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان مذاکرات کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے تاحال مولانا فضل الرحمان یا ان کی جماعت کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب آزاد کشمیر حکومت نے مختلف اضلاع کے متعدد افراد کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کے نوٹیفکیشن جاری کیے ہیں۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ اقدامات امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور قانون نافذ کرنے کے لیے کیے گئے ہیں، جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے حامی ان اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں۔

آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک اور حکومتی اقدامات کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر عوام، تاجروں اور سیاسی حلقوں کی نظریں ممکنہ مذاکرات اور آئندہ حکومتی فیصلوں پر مرکوز ہیں، تاہم تاحال تعطل برقرار ہے اور معمولات زندگی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں