حکومت نے کالعدم JK-JAAC کے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے میرپور، مظفرآباد، جہلم ویلی اور سدھنوتی کے متعدد کارکنان و رہنماؤں کو فورتھ شیڈول میں شامل کر دیا

مظفرآباد (20 جون 2026) — آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JK-JAAC) کے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے میرپور، مظفرآباد، جہلم ویلی اور سدھنوتی کے متعدد کارکنان و رہنماؤں کو فورتھ شیڈول میں شامل کر دیا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ داخلہ آزاد کشمیر نے 18 جون 2026 کو باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدام 5 جون 2026 کو ہونے والے کابینہ کے 41ویں اجلاس کے فیصلے، سنٹرل پولیس آفس کی سفارشات اور آزاد جموں و کشمیر انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کیا گیا۔ حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے افراد جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ ہیں، جسے متعلقہ قانون کے تحت کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری فہرستوں کے مطابق ضلع میرپور سے 14 افراد، ضلع مظفرآباد اور جہلم ویلی سے متعدد کارکنان جبکہ ضلع سدھنوتی سے 31 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں۔ فہرست میں وکلا، سیاسی و سماجی کارکنان اور عوامی ایکشن کمیٹی کے متحرک ارکان شامل ہیں۔

میرپور سے جن نمایاں افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں ان میں سعد انصاری ایڈووکیٹ، راجہ دانش ایڈووکیٹ، حاجی تاج دین ایڈووکیٹ، نازیہ شاہ ایڈووکیٹ، خواجہ مہران ارشاد، راجہ نظم کشمیری، چوہدری طارق اور دیگر شامل ہیں۔

اسی طرح مظفرآباد سے شوکت نواز میر، راجہ امجد علی خان، انجم زمان اعوان اور راجہ صہیب جاوید کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ جہلم ویلی سے عابد اعوان، سفیر عباسی، وقاص انجم، شہزاد گل، ناصر گل، محمد عارف ڈار، فہد مجید، ارشد علوی اور عبدالرشید آزاد کے نام شامل ہیں۔

ضلع سدھنوتی سے جاری ہونے والی فہرست میں 31 افراد شامل ہیں جن میں شہزاد احمد، امن خان، عاطف ساغر، وحید حسین، ابرار احمد، مولوی وسیم، عمران حلیم، جاوید اقبال، اعجاز کرامت، مولانا عتیق، عثمان خادم، تنویر کمال، عبد القدوس، فرحان کریم اور دیگر شامل ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی سرگرمیوں پر قانون کے تحت نگرانی رکھی جائے گی اور ان پر بعض قانونی پابندیاں بھی عائد ہوں گی۔ نوٹیفکیشن کی نقول وزارت داخلہ پاکستان، نیکٹا، ایف آئی اے، نادرا، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔

دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے حامی حلقوں نے حکومتی اقدام کو سیاسی انتقام اور عوامی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ کمیٹی کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ وہ عوامی حقوق اور مہنگائی کے خلاف پرامن جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ حکومت احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے انتظامی و قانونی اقدامات کر رہی ہے۔

ادھر آزاد کشمیر میں جاری شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی تحریک کے باعث سیاسی کشیدگی برقرار ہے اور مختلف اضلاع میں دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان کسی ممکنہ مذاکراتی پیش رفت پر تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
1۔ عمر نذیر کشمیری
2۔ ارباب ایڈووکیٹ
3۔ ساجد عزیز
4۔ امتیاز رحمت
5۔ شوکت حسین
6۔ ذوالفقار عارف
7۔ اعجاز عزیز
8۔ زبیر شریف
9۔ احسن اللہ
10۔ فیاض صابر
11۔ صمد شکیل
12۔ ساجد اعظم
13۔ ناصر لیاقت
14۔ ذوالفقار عرف بھٹو
15۔ اویس ارشاد
16۔ فرام مشتاق
17۔ خان افتخار
18۔ اظہر کشیر
19۔ واجد اسلم
20۔ سہیل شاہ
21۔ شاہد شراف
22۔ عامر شاہد
23۔ راجہ اسد
24۔ نذر کلیم
25۔ لالا نیاز کیانی
26۔ انصار احمد
27۔ ظہور حسین
28۔ محمد حیات خان
29۔ عبدالحفیظ
30۔ نوید شریف
31۔ امانت اللہ
32۔ عمر حیات
33۔ ارشاد حسین عرف ماما
34۔ مدثر امتیاز
35۔ یاسر آزاد
36۔ حبیب نواز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں