بلوچستان میں مکمل پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال، لاک ڈاون حکومت پر ٹرانسپورٹروں کاروباری ، اور ملازمین طبقہ اور عوامی حلقوں کی عدم اعتماد کا اظہار،موجودہ ہڑتالوں کوعوامی ریفرنڈم قرار دے کر مزید پالیسوں کو مرتب کرنے کی ضرورت ہے
11 جون کو بلوچستان بھر میں سرکاری ملازمین کی جانب سے لاک ڈاؤن، تاجروں کا شٹر ڈاؤن، ٹرانسپورٹرز کا پہیہ جام اور ہسپتالوں میں ڈاکٹروں و دیگر عملے کی مکمل ہڑتال اس بات کی واضح عکاسی کرتی ہے کہ صوبے میں حالات معمول کے مطابق نہیں ہیں اور عوام سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا فرد متاثر ہے بد امنی بے روزگاری چوری ڈکیتی اور عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے
اگر اتنے بڑے پیمانے پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہوں تو یہ حکومت کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور حکومتی ناکامی کی دلیل ہے جسکو وفاقی حکومت اور متعلقہ ادارے سنجیدگی سے لیں عوام مہنگائی، بے روزگاری، بنیادی سہولیات کی کمی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، مگر حکومتی حلقے زمینی حقائق تسلیم کرنے کے بجائے سب کچھ معمول کے مطابق ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ حقائق کے برعکس ہے
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کی طرف جائے ، ملازمین، تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور دیگر متاثرہ طبقات کے جائز مطالبات کو فوری طور پر مان کر اقدامات لیں ۔ بصورت دیگر ان احتجاجی سلسلوں کو مزید طول دیا جاسکتا ہے اور اسکا کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومتی نااہلی، غیر سنجیدگی اور ناقص پالیسیوں پر عائد ھو سکتی ہے۔
عوام اب صرف وعدے نہیں بلکہ عملی اقدامات چاہتے ہیں، کیونکہ مسائل کو نظر انداز کرنا کسی بھی صورت میں عوامی مفاد میں نہیں صوبہ بھر میں آج کے احتجاج حکومت پر عدم اعتماد کا ریفرینڈم تصور کیا جائے اگر ان حالات میں حکومت بلوچستان اور اسکے ناکام پالیسی ساز اداروں کو مزید حکومت کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، اس سے صوبے کے حالات روز بہ روز بگڑتے جائینگے،
منقول علم