نوشہرہ میں دو اہم واقعات، میڈیکل کمپلیکس میں خاتون سے مبینہ زیادتی کی کوشش، مریض لانے والا ڈرائیور گاڑی سے محروم
نوشہرہ میں پیش آنے والے دو الگ الگ واقعات نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایک جانب قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس میں زیر علاج مریض کی تیمارداری کے لیے موجود خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کی کوشش کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب ایک ڈرائیور مریض بچے کو ڈاکٹر کے پاس لاتے ہوئے اپنی گاڑی سے محروم ہو گیا۔
پولیس کے مطابق قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس (QHAMC) میں اپنے شوہر کی تیمارداری کے لیے موجود ایک خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ ہسپتال کے تین سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے دھوکے سے ایک کمرے میں لے جا کر مبینہ طور پر زیادتی کی کوشش کی۔ ایف آئی آر کے مطابق خاتون رات کے وقت اپنے شوہر کے لیے کھانا لینے باہر گئی تھیں اور واپسی پر راستہ بھول جانے کے بعد ایک سیکیورٹی اہلکار سے مدد طلب کی۔ خاتون کا مؤقف ہے کہ اہلکار انہیں ایک کمرے میں لے گیا جہاں مبینہ طور پر مزید دو افراد بھی پہنچ گئے اور ان کے ساتھ نازیبا حرکات کی گئیں۔
مدعیہ نے الزام لگایا ہے کہ ایک موقع پر “کیمرے بند کرنے” کی ہدایت بھی دی گئی۔ خاتون کے مطابق انہوں نے مزاحمت کی، شور مچایا اور بالآخر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ صوبائی وزیر صحت انجینئر میاں خلیق الرحمان خٹک نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمانہ انکوائری اور شفاف تفتیش کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
وزیر صحت کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو ملوث افراد کو سخت قانونی سزا دی جائے گی، جبکہ غلط بیانی یا جھوٹے الزامات ثابت ہونے کی صورت میں بھی قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ پولیس سی سی ٹی وی ریکارڈ، سیکیورٹی لاگز اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔
دوسری جانب نوشہرہ کے علاقے رشکئی سے تعلق رکھنے والے ڈرائیور محسن ولد فدا ایک مریض بچے کو معائنے کے لیے نوشہرہ مردان روڈ پر واقع چلڈرن اسپیشلسٹ ڈاکٹر طارق کمال کے کلینک لائے تھے۔ ڈرائیور کے مطابق انہوں نے شدید دھوپ سے بچانے کے لیے گاڑی قریبی گلی میں سایہ دار مقام پر کھڑی کی، تاہم چند منٹ بعد واپس آنے پر گاڑی غائب تھی۔
متاثرہ ڈرائیور کی درخواست پر پولیس نے نامعلوم کار لفٹروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق گاڑی کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
دونوں واقعات کے بعد شہریوں نے سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے پر حقائق سامنے لائے جائیں گے۔