ارشاد بھٹی اور چیف سیکرٹری پنجاب آمنے سامنے، الزامات اور جوابی کارروائی نے نیا تنازع کھڑا کر دیا
لاہور: سینئر صحافی اور تجزیہ کار ارشاد بھٹی اور زاہد اختر زمان کے درمیان تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ارشاد بھٹی نے اپنے وی لاگ میں چیف سیکرٹری پنجاب کے حوالے سے مختلف الزامات اور تنقیدی نکات اٹھائے۔ وی لاگ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پنجاب حکومت نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا۔
پنجاب حکومت کی جانب سے جاری وضاحتی مؤقف میں کہا گیا کہ چیف سیکرٹری پنجاب کے خلاف لگائے گئے الزامات میں کوئی صداقت نہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق سرکاری افسران کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی غلط معلومات کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرنے کا حق محفوظ ہے۔
سوشل میڈیا پر اس معاملے نے مزید توجہ اس وقت حاصل کی جب مختلف صارفین اور تبصرہ نگاروں نے دعویٰ کیا کہ چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے ارشاد بھٹی کے خلاف قانونی کارروائی اور عدالت سے رجوع کرنے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے کسی عدالتی فیصلے یا باضابطہ مقدمے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، اس لیے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
سیاسی و صحافتی حلقوں میں اس تنازع پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ صحافیوں کو عوامی مفاد کے معاملات اٹھانے کا حق حاصل ہے، جبکہ دوسرے حلقے سرکاری افسران کے خلاف الزامات عائد کرتے وقت ٹھوس شواہد اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ تنازع آزادیٔ اظہار، صحافتی ذمہ داری اور ریاستی اداروں کے وقار کے درمیان توازن کے سوال کو ایک بار پھر نمایاں کر رہا ہے۔ اگر معاملہ عدالت تک جاتا ہے تو دونوں فریقوں کے مؤقف اور شواہد قانونی جانچ کے بعد مزید واضح ہو سکیں گے۔
میاں دائود ایڈوکیٹ کا ٹویٹ
چیف سیکرٹری پنجاب کی سرکاری رہائش گاہ پر لان بنانے کی خبر سے قبل ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب احمد رضا سرور (کسٹوڈین اف جی او آرز) سے موقف کے لیے رابط کیا گیا، میسج بجھوایا گیا لیکن موصوف نے جواب نہ دیا۔ خبر اس لیے ڈسکس کی گئی کہ اس کے ڈاکومنٹس موجود اور فزیکلی لان کا وزٹ کیا گیا جس کی ویڈیو بھی موجود ہے۔ اس خبر کے بعد بعض دوستوں نے میرا ریفرنس دے کر وی لاگ کیا تو میر منشی و پنجاب حکومت کو اگ لگ گئی۔
گزارش ہے کہ صحافی کی ذمہ داری موقف لینا اور سائٹ کا فزیکلی جائزہ لینے لیکن اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ذمہ داران کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بروقت موقف دیں، خاموشی رضامندی ہوتی ہے۔ اب کھسیانی بلی کھمبا نوچے اور پیکا کی تڑی لگانا کہاں کا انصاف ہے۔ ان بونے قد کے منشیوں میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ صحافی کے سوالات کا جواب دیں۔ میں اپنی خبر پر قائم ہوں اور سکرین شاٹ بھی شیئر کردیا۔
سینئر صحافی انور حسین سمرا کی فیس بک وال سے پنجاب حکومت کی تردید پر مئوقف
@AnwerHSumra