پاک ایران سرحد گبد ریمدان پر کاروبار مفلوج، کسٹمز کی مبینہ ملی بھگت پر شدید تنقید

پاک ایران سرحد گبد ریمدان پر کاروبار مفلوج، کسٹمز کی مبینہ ملی بھگت پر شدید تنقید

گوادر: پاک ایران سرحد گبد–ریمدان (250) پر جاری غیر یقینی صورتحال اور پاکستان کسٹمز کی مبینہ نااہلی و ملی بھگت کے باعث باڈر ٹریڈ شدید متاثر ہو گیا ہے، جس سے سینکڑوں افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

صدر چیمبر آف کامرس جیہند ہوت نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے ایرانی گاڑیوں کو پاکستان میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے اور انہیں این ایل سی کے احاطے سے واپس بھیجا جا رہا ہے، جس سے قانونی کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

ہوت جیہند نے کہا کہ گبد–ریمدان بارڈر نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک اہم تجارتی گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں پاکستان اور ایران کے درمیان قانونی تجارت کو فروغ دینے کے لیے باقاعدہ بارڈر مارکیٹ قائم کی گئی تھی ۔ اس باڈر کے ذریعے ہونے والی امپورٹ و ایکسپورٹ سے نہ صرف مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوئے بلکہ قومی خزانے کو بھی خاطر خواہ ریونیو حاصل ہو رہا تھا۔

صدر چیمبر نے مزید کہا کہ کے مطابق پاکستان میں ٹیکس اور کسٹمز ریونیو اکٹھا کرنے کا ذمہ دار ادارہ ایف بی آر ہے، جس کی آمدنی کا بڑا حصہ سرحدی تجارت سے وابستہ ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں اس اہم ذریعہ آمدن کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

جیہند ہوت نے الزام عائد کیا کہ کسٹمز حکام کی جانب سے بلاجواز رکاوٹیں کھڑی کر کے تاجروں کو تنگ کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف کاروباری ماحول کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ حکومت کی پالیسیوں کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو باڈر ٹریڈ مکمل طور پر بند ہونے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں مقامی معیشت کو شدید دھچکا لگے گا۔

انہوں نے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ فوری نوٹس لے کر اس مسئلے کو حل کیا جائے، ایرانی گاڑیوں کی آمد و رفت کو بحال کیا جائے اور باڈر ٹریڈ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں، بصورت دیگر تاجر برادری سخت احتجاج پر مجبور ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ قانونی کاروبار کو روکنا اور تاجروں کو دیوار سے لگانا کسی صورت قابل قبول نہیں، اور اگر ادارے خود ہی تجارت کے راستے بند کریں گے تو اسمگلنگ کو فروغ ملے گا، جس کا نقصان براہ راست ملکی معیشت کو ہوگا

اس وقت ملکی بارڈرز کی صورتحال یہ ہے کہ چمن بارڈر مستقل بند ہے، جبکہ تفتان-زاہدان بارڈر پر خراب حالات کے باعث ٹریڈرز ہڑتال پر ہیں۔

پنجگور، مند اور ردیگ بارڈرز پر بھی راستوں کی عدم دستیابی اور گاڑیوں کو آئے روز نذرِ آتش کیے جانے کے واقعات کے باعث تجارت تقریباً معطل ہو چکی ہے۔

اس وقت ملک کی توانائی کا انحصار صرف گبد-ریمدان بارڈر پر ہے۔ تقریباً 10 سے 15 دنوں سے سینکڑوں ایل پی جی (LPG) سے بھری گاڑیاں کسٹمز کلیئرنس کی منتظر ہیں، جس کے باعث ملک بھر میں LPG کی سپلائی متاثر ہو گئی ہے۔ نتیجتاً کراچی اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں گیس 400 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات کے باعث ملک پہلے ہی توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہے۔

اگر گبد-ریمدان بارڈر کی یہی صورتحال برقرار رہی تو گیس کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

علاوہ ازیں، تاجروں کے لاکھوں ٹن چاول اور آم، جو برآمد کے لیے رکے ہوئے ہیں، خراب ہونے کا خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں