پروپیگنڈہ، فیک نیوز، غیر مستند اور غیر تصدیق شدہ خبروں کی ترسیل کو اپنی پیشہ ورانہ اقدار کے تحت روکنا ہر صحافی کا فرض ہے

*وزیراعظم محمد شہباز شریف کا عالمی یومِ آزادیِ صحافت 3 مئی 2026 پر پیغام*

عالمی یومِ آزادیِ صحافت پر میں پاکستان اور دنیا بھر کے صحافی، کالم نویس، رپورٹرز، مدیران، براڈکاسٹنگ اورصحافت سے وابستہ تمام افراد کو انکی بے لوث خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

صحافت سے وابستہ افراد کی پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی ایک باخبر اور با شعور معاشرے کی ضمانت ہے۔ مستند اور تعصب سے پاک غیر جانبدارانہ خبروں کی بروقت اشاعت و نشریات ہی اصل صحافت کی اساس ہے۔

پروپیگنڈہ، فیک نیوز، غیر مستند اور غیر تصدیق شدہ خبروں کی ترسیل کو اپنی پیشہ ورانہ اقدار کے تحت روکنا ہر صحافی کا فرض ہے۔ صحافی نہ صرف پیشہ ورانہ بلکہ سماجی اقدار کے امین ہیں۔

اس سال عالمی یومِ آزادیِ صحافت *“پرامن مستقبل کی تشکیل”* کے عنوان تحت منایا جارہا ہے۔ یہ موضوع دور حاضر کی ضروریات کی عکاسی کرتا ہے۔ صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی میں ایک باوقار، باحفاظت اور سازگار ماحول کے حقدار ہیں۔

عصر حاضر میں امن و امان کا ماحول محض سفارت کاری سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ مستند معلومات، ذمہ دارانہ صحافت اور عوامی راۓ اسکی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات، ممالک کے مابین سفارتی,معاشی، معاشرتی باہمی تعلق کو مثبت، بامعنی اور موثر بنانے میں میڈیا تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بیشتر اوقات نقطہء نظر کی صحیح ترجمانی بہت سے پیچیدہ مسائل حل کر دیتی ہے۔ یہی ذمہ دارانہ صحافت کا طرہ امتیاز ہے۔

پاکستان پر امن ملک ہے اور اختلاف راۓ سے لے کر کشیدگی کے دیر پا حل تک مکالمے اور مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے۔ موجودہ حالات میں سفارتی میدان میں پاکستان، کشیدگی میں کمی، مکالمے کے فروغ اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ اس تناظر میں عالمی سطح پر میڈیا نے پاکستان کی تحسین کی ہے۔

سفارتی محاذ اور زمانہ امن کے علاوہ قومی میڈیا نے معرکۂ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کے دوران بھی ایک اہم ذمہ داری ادا کی۔ مربوط قومی ردعمل اور خودمختاری کے دفاع میں قومی یکجہتی اور پاکستان کے مؤقف کو وضاحت اور تحمل کے ساتھ پیش کیا۔ میڈیا نے عوام کو آگاہ رکھا اور غلط معلومات کا تدارک کیا۔
معرکہ حق کے لمحات مسلح افواج کی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ مشترکہ قومی طاقت کا مظہر تھے جس میں ذمہ دار میڈیا بخوبی شامل تھا۔ اور تمام صحافی برادری کا کردار لائق تحسین تھا۔

آج ہم ان صحافیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی جرات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آزادی صحافت ایک بیش قدر اثاثہ ہے۔

میڈیا کا منظرنامہ بڑی تیزی سے جدت کو اپناتے ہوۓ تبدیل ہو رہا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ملکی و عالمی رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں قومی تشحص اور نقطہء نظر کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے میں میڈیا کا اہم کردار ہے۔

میڈیا اداروں کو ڈیجیٹل میدان میں جدت سے خود کو ہم آہنگ کرنے میں رفتاراور احساس ذمہ داری دونوں درکار ہیں۔ جعلی خبروں اور منظم گمراہ کن مہمات کا پھیلاؤ قومی ہم آہنگی اور عالمی ساکھ کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔
خبروں تک جلد رسائی اور ساکھ دونوں کو مقدم رکھنا ناگزیر ہے۔ میں تمام صحافی حضرات سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تصدیق، دیانت اور پیشہ ورانہ معیار کی اعلیٰ ترین اقدار کو برقرار رکھیں۔ تاکہ میڈیا کے برق رفتار ڈیجیٹل دور میں بھی مسابقت سچائی کی قیمت پر نہ ہو۔

میڈیا نہ صرف ہماری معاشرتی، سیاسی اور معاشی تنوع کی عکاسی کرتا ہے بلکہ قومی یکجہتی و استحکام کے فروغ کا باعث ہے۔ صحافت عوام کے سماجی، معاشی اور عوامی اہمیت کے امور کو اجاگر کرنے اور اہم عوامی آگاہی کے لیۓ مفید انداز میں کام کرتی ہے۔

آج اس موقع پر، میں اپنی حکومت کے اس عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ آزادیِ صحافت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کے فروغ اور سازگار ماحول کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھاۓ جائیں گے۔

آئیے، مشترکہ تجدید عزم کریں کہ صحافتی آزادی کے تحفظ میں حکومت اپنا کردار ادا کرتی رہے گی تاکہ سازگار ماحول میں میڈیا سچائی کے ساتھ اپنی ذمہ داری نبھاتا رہے۔ اور مل کر ہم ایک مضبوط پاکستان کی تعمیر کے لیۓ محو عمل رہیں جو پر امن، پراعتماد اور عالمی سطح پر باوقار مقام رکھتا ہو۔

3 مئی کا دن دنیا بھر میں آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہارِ رائے، معلومات تک رسائی اور جمہوری اقدار کے فروغ کے عزم کی تجدید کا مظہر ہے۔محترمہ فرح عظیم شاہ

ایک آزاد، ذمہ دار اور بااختیار میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کا ناگزیر ستون ہے، جو نہ صرف عوام کو بروقت اور مستند معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ حکومتی شفافیت، احتساب، سماجی انصاف اور قومی بیانیے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔عالمی یومِ آزادیِ صحافت کے موقع پر خصوصی پیغام

اسلام آباد کوئٹہ ( نمائندہ خصوصی)رکن بلوچستان اسمبلی ۔بلوچستان نیشنل پارٹی ویمن ونگ کی صدر اور ایمان پاکستان ٹرسٹ کی چئرپرسن محترمہ فرح عظیم نے عالمی یومِ آزادیِ صحافت کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ 3 مئی کا دن دنیا بھر میں آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہارِ رائے، معلومات تک رسائی اور جمہوری اقدار کے فروغ کے عزم کی تجدید کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی صحافت کے عالمی دن کا آغاز 1993 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی منظوری سے ہوا، اور تب سے یہ دن صحافیوں کے کردار، ان کی قربانیوں اور آزادیٔ صحافت کی عالمی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے منایا جا رہا ہے۔
رکن بلوچستان اسمبلی محترمہ فرح عظیم شاہ کہا کہ ایک آزاد، ذمہ دار اور بااختیار میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کا ناگزیر ستون ہے، جو نہ صرف عوام کو بروقت اور مستند معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ حکومتی شفافیت، احتساب، سماجی انصاف اور قومی بیانیے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ محترمہ فرح عظیم شاہ نے کہا اس دن کا مقصد صحافت کے بنیادی اصولوں سے آگاہی، صحافیوں اور میڈیا اداروں کو درپیش چیلنجز، ، پیشہ وارانہ دباؤ اور سیکیورٹی خدشات کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا بھی ہے۔
محترمہ فرح عظیم شاہ نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے صحافیوں کو ان کی خدمات اور قربانیوں پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کا تحفظ، آزادی اور پیشہ ورانہ خودمختاری جمہوریت کے استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
محترمہ فرح عظیم شاہ نے کہاکہ آئینِ پاکستان آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کی واضح ضمانت فراہم کرتا ہے، اور سینیٹ آف پاکستان نے ہمیشہ ان آئینی حقوق کے تحفظ اور صحافیوں کے حقوق کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ محترمہ فرح عظیم شاہ نے کہا کہ پاکستان میں قانون سازی، قراردادوں اور پارلیمانی مباحث کے ذریعے صحافیوں کے تحفظ، معلومات تک رسائی اور آزادیٔ اظہار کے فروغ کے لیے اہم اقدامات کئے جائیں گے، محترمہ فرح عظیم شاہ نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف تشدد، ہراسانی، دباؤ اور غیر جمہوری قدغنیں ہرگز قابلِ قبول نہیں اور ایسے تمام رجحانات کی مؤثر حوصلہ شکنی ناگزیر ہے۔رکن بلوچستان اسمبلی محترمہ فرح عظیم شاہ نےکہ
موجودہ دور میں جہاں اطلاعات کی برق رفتاری کے ساتھ فیک نیوز، پروپیگنڈا اور غیر مصدقہ معلومات کے چیلنجز بڑھ رہے ہیں، وہاں ذمہ دار، بااصول اور قومی مفاد سے ہم آہنگ صحافت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ سچائی، تحقیق، توازن اور قومی ذمہ داری کے اصولوں کو مقدم رکھتے ہوئے معاشرے میں مثبت اور تعمیری مکالمے کو فروغ دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں