الیکڑانک میڈیا پر عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کیخلاف پیمرا نوٹیفکیشن کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا

الیکڑانک میڈیا پر عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کیخلاف پیمرا نوٹیفکیشن کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا
آئندہ ہفتے فیصلہ سنائے جائے گا ، چیف جسٹس عامر فاروق
چیف جسٹس عامر فاروق نے اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن اور پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی درخواستوں پر سماعت کی
درخواست گزاروں کے وکیل ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ ، اظہر صدیق اور عادل قاضی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش
پیمرا کے وکیل سعد ہاشمی کے دلائل
ایسا کیا رپورٹ ہوا تھا جس سے ڈائریکٹو جاری کرنا پڑا؟ چیف جسٹس
آپ سیدھا سیدھا پابندی پر ہی چلے گئے ، چیف جسٹس عامر فاروق
پیمرا نے اجازت دی ہے کہ جب تحریری فیصلہ آئے تو رپورٹ کرسکتے ہیں، پیمرا وکیل
زمانہ تبدیل ہوچکا ہے چیزیں تبدیل ہوچکی ہیں، چیف جسٹس عامر فاروق
ہمیں ان چیزوں کیساتھ خود کو ڈھالنا ہے ، چیف جسٹس
اسلام آباد ہائیکورٹ کی بات کروں تو ایسا کچھ نہیں کہ کہیں غلط رپورٹنگ ہوئی ہے، چیف جسٹس
کل میں نے جو کہا وہ بالکل درست رپورٹ ہوا، چیف جسٹس
میں نے ہر سیاسی جماعت کے رہنماؤں کے کیس سنے لیکن کوئی ایک کیس ایسا نہیں جو مس رپورٹ ہوا، چیف جسٹس عامر فاروق
ہم نے کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا کہ یہ کہنا پڑے یہ میں نے کہا ہی نہیں تھا ، چیف جسٹس
اگر کہیں غلط رپورٹنگ ہوئی ہے تو اس کے لیے بھی طریقہ کار موجود ہے، چیف جسٹس
یہ ہدایت نامہ میڈیا چینلز کو جاری کی گئی ہیں، وکیل پیمرا
انہوں نے سپریم کورٹ کی ایک بھی گائیڈ لائن پر عمل نہیں کیا، وکیل پیمرا
سوال یہ ہے کہ بات پابندی کی طرف کیوں گئی؟ عدالت
آپ کے سامنے کوئی کمپلینٹ نہیں آئی ہوتی تو آپ یہاں پیش کر دیتے ، چیف جسٹس عامر فاروق
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایسے کوئی شکایت نہیں بھیجی کہ غلط رپورٹنگ ہوئی ہے، چیف جسٹس عامر فاروق
کل ہم نے گھنٹوں سماعت کی لیکن سماعت کا حکمنامہ چار سطروں پر مشتمل تھا،چیف جسٹس
جو عدالتی آبزرویشن ہیں وہ بھی رپورٹ ہوسکتی ہیں، چیف جسٹس عامر فاروق
سپریم کورٹ میں عوامی مفاد کے مقدمات کی لائیو سٹریمنگ ہوتی ہے، وکیل پیمرا
یہاں بھی سب کیس رپورٹ نہیں ہورہے ہیں صرف پبلک نوعیت کے مقدمات رپورٹ ہورہے ہوتے ہیں، چیف جسٹس
آپ بتا دیں غلط رپورٹنگ ہوئی اور پیمرا نے ایکشن لیا ہو، چیف جسٹس عامر فاروق
زمانہ آگے جارہا ہے واپس مت جائیں ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے، چیف جسٹس عامر فاروق
قانون قاعدے کے حساب سے آپ چلیں تو کوئی عدالت اپکو نہیں روکے گی، چیف جسٹس
سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ڈائریکٹو جاری کیا گیا ، وکیل پیمرا سعد ہاشمی
یہ پتھروں کے دور میں واپس جانا چاہتے ہیں مگر میں نہیں جانا چاہتا، اظہر صدیق ایڈووکیٹ
کوئی قانون کی خلاف ورزی کررہا ہے تو قانون کے مطابق طریقہ کار موجود ہے، اظہر صدیق ایڈووکیٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں