پشاور: زہریلے مشروم کھانے سے تین بچوں کی موت، ایل آر ایچ میں مبینہ غفلت کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم
پشاور کے نواحی علاقے دوران پور میں زہریلے مشروم کھانے سے ایک ہی خاندان کے تین بچوں کی اموات کے معاملے پر محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق بچوں نے قریبی کھیتوں سے لائے گئے مشروم کھائے تھے، جس کے بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ واقعے میں چار دیگر افراد کی حالت بھی تشویشناک بتائی گئی ہے۔
لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ بچوں کو تشویشناک حالت میں لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم انہیں بروقت طبی سہولیات اور انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں بستر فراہم نہیں کیے گئے، جس کے باعث ان کی جانیں ضائع ہوئیں۔ ورثاء نے علاج میں مبینہ غفلت اور سہولیات کی عدم فراہمی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
محکمہ صحت کے اعلامیے کے مطابق انکوائری کمیٹی واقعے کی وجوہات، طبی سہولیات کی دستیابی، ایمرجنسی سروسز میں ممکنہ تاخیر اور متعلقہ طبی عملے کے فیصلوں کا جائزہ لے گی۔
کمیٹی کو اسپتال کا ریکارڈ چیک کرنے اور متعلقہ عملے سمیت دیگر افراد کے بیانات قلمبند کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ تحقیقات کے دوران طبی غفلت، طریقہ کار کی خلاف ورزی یا انتظامی کوتاہی سامنے آنے پر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔
ڈاکٹر احمد فیصل کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں ڈپٹی سیکریٹری صحت اور چائلڈ اسپیشلسٹ بھی شامل ہیں۔ کمیٹی کو تین روز کے اندر دستاویزی شواہد کی بنیاد پر حقائق پر مبنی رپورٹ اور سفارشات محکمہ صحت کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
واقعے کے بعد اسپتال میں ایمرجنسی سہولیات، مریضوں کو بروقت علاج کی فراہمی اور مبینہ غفلت کے الزامات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔