اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کو بڑا سیاسی دھچکا، عرب جماعتوں کی تاریخی کامیابی، کسی بھی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوسکی

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کو بڑا سیاسی دھچکا، عرب جماعتوں کی تاریخی کامیابی، کسی بھی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوسکی

اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی ایگزٹ پولز میں وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو بڑا دھچکا لگنے کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں، جبکہ اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہے۔ عرب جماعتوں نے بھی غیرمعمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 17 سے 18 نشستیں حاصل کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ تاہم کسی بھی سیاسی اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل ہوتی نظر نہیں آرہی۔ ThePrint – +2

اسرائیلی میڈیا کے ایگزٹ پولز کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد کو تقریباً 50 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد 52 سے 53 نشستیں حاصل کرسکتا ہے۔ نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ بدستور انفرادی طور پر سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آسکتی ہے، تاہم اس کی نشستوں میں گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ حتمی نتائج آنے کے بعد ہی سیاسی صورت حال واضح ہوسکے گی۔ Anadolu Agency +1

انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ بھی غیرمعمولی رہا۔ اسرائیلی انتخابی حکام کے مطابق تقریباً 77.7 فیصد ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، جو 1999 کے بعد بلند ترین شرح قرار دی جارہی ہے۔ عرب جماعتوں کی متوقع کامیابی کو بھی انتخابی نتائج کا اہم پہلو سمجھا جارہا ہے، کیونکہ ان کی نشستیں حکومت سازی کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں۔ Anadolu Agency +1

صحافی جویس کرم نے انتخابی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عرب جماعتوں کی نمایاں کامیابی اہم پیش رفت ہے، جبکہ نیتن یاہو کے اتحاد کو تقریباً ایک تہائی نشستوں کے نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ دنوں میں گادی آئزن کوٹ، نفتالی بینیٹ اور عرب رہنما منصور عباس کے سیاسی فیصلے اہم ہوں گے۔

دوسری جانب ایک پاکستانی مبصر نے اسرائیلی انتخابات کے تناظر میں پاکستان میں جمہوری اداروں، قانون کی حکمرانی اور احتساب کی صورت حال پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں سپریم کورٹ نے عرب اکثریتی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کی کوشش مسترد کردی، جسے انہوں نے اداروں کی خودمختاری کی مثال قرار دیا۔

مبصر نے پاکستان کا تقابل کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ تقریباً آٹھ دہائیوں بعد بھی ملک میں ادارے شخصیات اور طاقتور حلقوں کے مقابلے میں کتنے خودمختار ہیں، اور کیا ریاستی نظام اور میڈیا اپنی آزادانہ حیثیت برقرار رکھ سکے ہیں؟ ان کے مطابق جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ ادارے قانون کے مطابق کام کریں اور اقتدار رکھنے والے افراد بھی احتساب کے دائرے میں رہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی انتخابات کے یہ اعدادوشمار ابتدائی ایگزٹ پولز پر مبنی ہیں، حتمی سرکاری نتائج نہیں۔ حکومت سازی کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور اتحادوں کی تشکیل فیصلہ کن ہوگی، جبکہ عرب جماعتوں کا کردار آئندہ سیاسی منظرنامے میں اہم ہوسکتا ہے۔ The Times of Israel +1

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں