خیبرپختونخوا وفاق کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتا، صوبے کے مسائل کا حل مل کر نکالنا ہوگا، گورنر فیصل کریم کنڈی
صوابی اور نوشہرہ میں گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وفاق کے ساتھ ہم آہنگی صوبے کے لیے خوش آئند ہے، خیبرپختونخوا کی خوش قسمتی ہے کہ وفاق کے ساتھ ایک پیج پر آگئے ہیں۔ صوبے کو درپیش مسائل کا حل وفاق کے ساتھ مل کر ہی ممکن ہے، جبکہ دہشت گردی کا خاتمہ اور خیبرپختونخوا کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوابی میں پنج پیر اجتماع میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور دیگر صوبوں کے ساتھ خوشگوار اور برادرانہ تعلقات کا فروغ ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ سب کو مل کر لڑنا ہوگی، چھ ماہ کا عرصہ بہت ہوتا ہے، اس لیے اس معاملے پر سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے اور قانون کا اطلاق سب سے پہلے خود پر کریں گے۔ میڈیا کو تنقید برائے اصلاح کا مکمل حق حاصل ہے، مثبت تنقید سے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلاب لانے اور اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کرنا ہوں گے۔
بعد ازاں نوشہرہ کے علاقے مانکی شریف میں وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ پرویز خٹک سے ملاقات اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، صوبے کے سیاسی معاملات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سابق صوبائی حکومت نے وفاق کے ساتھ تمام معاملات ختم کر دیے تھے، تاہم اب تمام سیاسی رہنماؤں اور مشیران کے ساتھ مل کر صوبے کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنی ہے تو دلیل اور منطق سے قائل کیا جائے، گالیاں دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے بتایا کہ پشاور میں تاریخ کی سب سے بڑی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں فیلڈ مارشل اور وزیراعظم نے اپنی ٹیم کے ہمراہ شرکت کی۔ اجلاس میں انہوں نے صوبے کے مسائل اور مطالبات پیش کیے، جس کے بعد وفاق نے خیبرپختونخوا کے لیے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا اور گندم کا مسئلہ حل کیا۔
انہوں نے کہا کہ وفاق نے صوبے کو مزید فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے این ایف سی فنڈز واجب الادا ہیں، جبکہ 160 ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج اس سے الگ ہے۔
فیصل کریم کنڈی کے مطابق صوبے کی ترقیاتی اسکیموں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور این ایف سی کے فنڈز بھی بہت جلد ملنے کی توقع ہے۔ وفاق نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مطالبہ کرنے پر فنڈز جاری کر دیے جائیں گے، اس لیے ایسی کوئی وجہ نہیں کہ صوبے کے فنڈز جاری نہ ہوں یا ترقیاتی کام رک جائیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لا کر صوبے کی ترقی یقینی بنائی جائے گی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبے کو مل کر مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔