مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے 13 سالہ دورِ حکومت کے خاتمے اور صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سیاسی صورتحال پر یومِ نجات ریلی نکالی

اٹک میں 9 نومبر تک دفعہ 144 نافذ، جلسوں، جلوسوں اور احتجاجی سرگرمیوں پر پابندی، مسلم لیگ (ن) کی یومِ نجات ریلی

ڈپٹی کمشنر اٹک ڈاکٹر مدثر احمد شاہ نے ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ہر قسم کے جلسوں، جلوسوں، ریلیوں، مظاہروں، دھرنوں، احتجاجی اجتماعات اور دیگر ایسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ جاری کردہ حکم نامے کے مطابق پابندی 11 اکتوبر سے 9 نومبر 2026 تک نافذ العمل رہے گی اور اس کا اطلاق ضلع اٹک کی تمام حدود میں ہوگا۔

حکم نامے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں کے باعث مرکزی شاہراہوں اور عوامی راستوں کی بندش سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ امن و امان اور عوامی سکون کے حوالے سے بھی خدشات موجود ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے انسانی جانوں کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضابطہ فوجداری کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے پابندی عائد کی ہے۔ متعلقہ اداروں کو حکم نامے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

دوسری جانب ضلع اٹک میں دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد کچہری چوک میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے 13 سالہ دورِ حکومت کے خاتمے اور صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سیاسی صورتحال پر یومِ نجات ریلی نکالی۔ ریلی کی قیادت مسلم لیگ (ن) کے سابق امیدوار پنجاب اسمبلی اور چیئرمین ہیلتھ کمیٹی اٹک ملک حمید اکبر خان نے کی۔

ریلی میں کنٹونمنٹ بورڈ اٹک کے سابق نائب صدر شکیل خان بنگش، معروف سیاسی شخصیت وقار احمد اعوان آف بھدری، دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے پی ٹی آئی کے خیبرپختونخوا میں 13 سالہ دورِ حکومت پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور پاک فوج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد کے نعرے لگائے۔

اس موقع پر ریلی کے شرکاء نے امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فساد، کرپشن اور بدامنی سے نجات پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خوشحالی، پائیدار امن اور ایک روشن پاکستان ہی ملک کی ترقی کا راستہ ہے۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ملک حمید اکبر خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ملک بھر میں انتشار پھیلانے کی مہم شروع کر رکھی ہے، جس سے عام شہری متاثر ہو رہے ہیں۔ عوام چاہتے ہیں کہ ملک میں انتشار کا خاتمہ ہو تاکہ وہ سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں مثبت تبدیلی اور ترقی کے عمل کو روکنے کے لیے احتجاج اور انتشار کی سیاست کسی صورت قابل قبول نہیں۔ لانگ مارچ اور احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پاکستان مزید انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ملک حمید اکبر خان نے زور دیا کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے مسلم لیگی کارکنوں اور شہریوں کی شرکت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ریلی کے اختتام پر کچہری چوک میں مٹھائی تقسیم کی گئی اور آتش بازی بھی کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں