### پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک جاری، آج لاہور میں جلسہ عام، دو کروڑ دستخط لینے کا اعلان، وزیراعظم کی فیول ریلیف سکیم پر عملدرآمد تیز
حافظ نعیم الرحمن کا وزیراعظم کی واپسی پر مذاکرات کا مطالبہ، لیاقت بلوچ نے اسلام آباد مارچ مؤخر کرنے کی تفصیلات بتادیں، بلال اظہر کیانی کے جہلم، سوہاوہ اور دینہ میں پٹرول پمپس کے دورے
لاہور/جہلم (صحافی آن لائن) جماعت اسلامی پاکستان نے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے آج جمعہ کو لاہور میں بڑے جلسہ عام کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں، جس میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن لیوی کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل اور اسلام آباد سپر مارچ کے حوالے سے اہم اعلان کریں گے، جبکہ دو کروڑ افراد کے دستخط حاصل کرنے کے لیے ملک گیر مہم بھی شروع کی جائے گی۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی فیول ریلیف سکیم پر عملدرآمد تیز کرنے کے لیے وزیر مملکت خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے جہلم، سوہاوہ اور دینہ کے پٹرول پمپس اور رجسٹریشن کیمپس کے دورے کیے اور شہریوں کو سستے پٹرول کے حصول کے لیے رجسٹریشن اور ٹوکن حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے کی ملک گیر احتجاجی تحریک جاری ہے، اسلام آباد لانگ مارچ حکمت عملی اور وزیراعظم کی درخواست پر چند روز کے لیے مؤخر کیا گیا ہے، وزیراعظم وطن واپسی پر بلاتاخیر پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز کریں، ٹال مٹول سے کام لیا گیا تو اسلام آباد مارچ شروع کردیا جائے گا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خلاف 510 مقامات پر احتجاجی سرگرمیاں شروع کیں اور 42 شہروں میں ایک ماہ سے زائد عرصے تک دھرنے دیے، جس کے نتیجے میں پٹرولیم لیوی کا معاملہ ملک بھر میں زیر بحث آیا۔ جماعت اسلامی کا دوٹوک مطالبہ لیوی کا مکمل خاتمہ ہے، ایک لیٹر پٹرول پر 107 روپے لیوی کسی صورت قبول نہیں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ردوبدل کے اثرات پاکستان پر پڑنا قدرتی امر ہے، تاہم عوام پر بھاری مالی بوجھ ڈالنا قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے پٹرول پر دیے گئے ریلیف سے بھی عام آدمی کو خاطرخواہ فائدہ نہیں ہورہا، جماعت اسلامی نے اس نام نہاد ریلیف کو مسترد کرتے ہوئے حکومت پر واضح کیا تھا کہ اتنی بڑی رقم کرپٹ نظام کی نذر ہورہی ہے۔ ان کے بقول حکومتی کمیٹی نے تسلیم کیا تھا کہ ریلیف کا فیصلہ جلدبازی میں کیا گیا۔
لیاقت بلوچ نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں جماعت اسلامی نے لیوی ختم کرنے اور متبادل محصولات کے لیے چھ تجاویز پیش کیں، جن میں شرح سود کو 9 فیصد تک لانا، آئی پی پیز معاہدوں سے ہونے والی بچت عوامی فلاح پر خرچ کرنا، آئل ریفائنریوں کے منافع میں کمی، اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل ہونے والے محکموں کے وفاقی اخراجات ختم کرنا، کیش ریزرو ریکوائرمنٹ کی شرح 5 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنا اور حکومتی اخراجات و شاہ خرچیوں میں کمی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس جماعت اسلامی کی تجاویز مسترد کرنے کی کوئی ٹھوس دلیل نہیں تھی، تاہم حکومتی کمیٹی نے وزیراعظم کی درخواست پر لانگ مارچ روکنے کی بات کی، اسی دوران کراچی سے ٹرین مارچ شروع ہوا اور وزیراعظم نے خود حافظ نعیم الرحمن سے رابطہ کرکے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی۔ حافظ نعیم الرحمن نے واضح کردیا تھا کہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ جماعت اسلامی کا بنیادی اور دوٹوک مطالبہ ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ اسلام آباد کسی کی جاگیر نہیں بلکہ وہاں پالیسی ساز ادارے، سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ موجود ہیں، اس لیے ہر سیاسی جماعت کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔ احتجاج کو پرامن رکھنا سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے احتجاج کی حمایت اور کارکنوں، بالخصوص خواتین کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں، علامہ راجہ ناصر عباس، محمود خان اچکزئی اور بیرسٹر گوہر کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا حکومت کو مثبت جواب دینا چاہیے اور بات چیت کے لیے کمیٹی تشکیل دینی چاہیے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج جیسی کیفیت کو وفاق کے لیے نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ پرامن اور منظم احتجاج پر یقین رکھتی ہے اور مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد لانگ مارچ شروع کردیا جائے گا۔
دوسری جانب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے ملک گیر اجتماع کارکنان سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کو لاہور میں پٹرولیم لیوی کے خلاف جلسہ عام ہوگا، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ وزیراعظم کی وطن واپسی پر مذاکرات کے ذریعے عوام کو حقیقی ریلیف نہ دیا گیا تو ملتان سے اسلام آباد مارچ شروع ہوجائے گا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی لیوی کے خلاف دستخطی مہم شروع کررہی ہے، جس کا ہدف دو کروڑ افراد کے دستخط حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی قیادت نے مشاورت سے لانگ مارچ مؤخر کیا، جسے کارکنان، تجزیہ نگاروں، کالم نگاروں اور معاشرے کے مختلف نمایاں طبقات نے سراہا ہے، تاہم بعض حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی جارہی ہے، جماعت اسلامی تنقید سے گھبرانے والی نہیں اور عوامی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
انہوں نے احتجاجی تحریک اور دھرنوں میں کارکنان، بالخصوص خواتین اور بزرگوں کی شرکت اور استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کا بنیادی مقصد عوام کو ان کے حقوق دلانا ہے۔ کارکنان عوام کو متحرک کرنے کے لیے اپنی محنت جاری رکھیں اور نظم جماعت کے پابند رہتے ہوئے مسلسل جدوجہد کریں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے خلاف بھرپور تحریک چلائی، جس کے بعد حکومت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے بات چیت پر مجبور ہوئی۔ ان کے مطابق حکومت کے اپنے بیان کے تحت اس عمل سے قومی خزانے کو ساڑھے چار ہزار ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ اب پٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک کے نتیجے میں یہ معاملہ ملک کے بچے بچے کی زبان پر ہے اور دھرنوں کے باعث روزانہ میڈیا پر زیر بحث رہتا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں عوامی مسائل پر آواز بلند نہیں کرتیں کیونکہ ان میں مختلف مافیاز کا اثرورسوخ ہے۔ ان کے بقول چینی، آٹا، شوگر، ادویات اور آئی پی پیز سمیت مختلف شعبوں کے مفادات اور حکمران طبقے کی شاہ خرچیاں عوام کے مسائل میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں، جبکہ سودی معیشت نے ملک کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کسان، مزدور، نوجوان اور طلبہ پریشان ہیں، جماعت اسلامی پورے نظام اور اس کے رکھوالوں کے خلاف عوامی حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ادھر وزیراعظم فیول ریلیف سکیم پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے وزیر مملکت خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے 23 اور 24 ستمبر کو جہلم، سوہاوہ اور دینہ کے شہری اور دیہی علاقوں میں پٹرول پمپس اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے قائم رجسٹریشن کیمپس کے دورے کیے۔
بلال اظہر کیانی نے شہریوں کو 9771 پر رجسٹریشن کرانے اور ٹوکن حاصل کرنے کے طریقہ کار میں مدد فراہم کی، جبکہ ٹوکن ملنے پر شہریوں کی موٹر سائیکلوں میں خود پٹرول بھی ڈالا۔ اس موقع پر شہریوں نے ان کی جانب سے مدد فراہم کرنے اور رجسٹریشن کیمپس قائم کرنے کے اقدام کو سراہا۔
وزیر مملکت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے عوام کو سستے پٹرول کی فراہمی کا عمل تیز ہورہا ہے، عوام کی آگاہی اور رجسٹریشن میں مدد کے لیے مسلم لیگ (ن) نے پٹرول پمپس کے ساتھ کیمپس قائم کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل سواروں کو ہر ہفتے 500 روپے کا مفت پٹرول فراہم کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے حالات کے باعث پاکستان کی معیشت پر دباؤ ہے، تاہم حکومت ملکی معاشی مفادات اور عوام دونوں کا تحفظ کررہی ہے۔ بلال اظہر کیانی کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن، ضلعی انتظامیہ، پولیس حکام، مسلم لیگ (ن) کے مقامی قائدین اور کارکنان بھی موجود تھے۔
وزیر مملکت نے خیبرپختونخوا میں پولیس ایکٹ 2026 کی صوبائی کابینہ سے منظوری پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی پولیس کو سیاسی فورس بنانے کی کوشش کررہی ہے، جس سے دہشت گردی کے خلاف لڑنے والی پولیس کے لیے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کی تیاری کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے معاملات پارلیمنٹ اور عدالتوں میں حل کرنے چاہئیں۔
جماعت اسلامی کی جانب سے پٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کے مطالبے اور وزیراعظم فیول ریلیف سکیم پر حکومتی عملدرآمد کے درمیان یہ معاملہ سیاسی اور معاشی سطح پر بدستور اہمیت اختیار کرگیا ہے، جبکہ آج لاہور میں ہونے والا جلسہ عام اور وزیراعظم کی وطن واپسی پر مجوزہ مذاکرات آئندہ احتجاجی حکمت عملی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیے جارہے ہیں۔