خیبر پختونخوا کرپشن کا گڑھ بن چکا، انتشار کی سیاست سے باز نہ آئے تو بند گلی میں داخل ہو جائیں گے، بابر نواز

اسلام آباد: ن لیگی رکن قومی اسمبلی بابر نواز نے خیبر پختونخوا حکومت پر کرپشن، بدامنی اور سیاسی انتشار کو فروغ دینے کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں عوام کے پیسے کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ اے این پی رہنما ثمر بلور نے بھی صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صوبے میں امن و امان اور حکمرانی کی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں اے این پی رہنما ثمر بلور اور ن لیگی رہنما سعیدہ جمشید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر نواز نے کہا کہ آج خیبر پختونخوا کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے، صوبے کے ہسپتالوں کو مبینہ طور پر لیبارٹری بنا دیا گیا ہے جبکہ بعض ہسپتالوں کو شوکت خانم کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے مختلف شعبوں میں مبینہ کرپشن کی شکایات سامنے آ رہی ہیں اور عوام کے پیسے کے ضیاع کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

بابر نواز نے کہا کہ پاک فوج کے جوان ملکی سلامتی کی جنگ لڑ رہے ہیں، تاہم پی ٹی آئی کے سیاسی رہنما ان کے پاس جانا اور ان کے جنازوں میں شرکت کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک شخص صوبے کے پانچ کروڑ عوام سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ اب نہ ڈیل ہے نہ ڈھیل، ریاست عوام کے تحفظ اور امن کے لیے اقدامات کرے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

بابر نواز نے پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے تربیلا ڈیم، ورسک ڈیم اور کرک گیس کی سپلائی بند کرنے اور ملک کو مفلوج کرنے سے متعلق مبینہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد پہنچنے اور ’’اینٹ سے اینٹ بجانے‘‘ جیسے بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کو غلط کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی رہنما قوم کو گمراہ اور انتشار کی سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے ملک کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں آج بھی معیاری ہسپتالوں کی کمی ہے جبکہ سیکڑوں اسکول ایسے ہیں جہاں اساتذہ موجود نہیں۔

بابر نواز نے کہا کہ اگر پرامن احتجاج سیاسی جماعتوں کا حق ہے تو خیبر پختونخوا کے عوام کو بھی امن کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انتشار کی سیاست ترک نہ کی گئی تو متعلقہ سیاسی عناصر ’’بند گلی‘‘ میں داخل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے شفیع جان کی جانب سے خواتین کے بارے میں مبینہ نازیبا گفتگو کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی زبان خیبر پختونخوا کی روایات کے مطابق نہیں۔

اس موقع پر اے این پی رہنما ثمر بلور نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں اور صوبہ دہشت گردی، بدامنی، اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے متاثر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنوں اور لکی مروت کے بچے تعلیم کے لیے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے، جبکہ اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز اور نرسز پر مبینہ طور پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے۔

ثمر بلور نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 26 نومبر کو اسلام آباد آنے والے کارکن آج تک جیلوں میں ہیں، جبکہ حکمران اپنے بچوں کو بیرون ملک بھیج کر عوام کے بچوں کو نشانہ بنوا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ پہلے حکومت سے مذاکرات نہ کرنے کی بات کرتے تھے، آج وہی حکومت سے مذاکرات کے لیے بے تاب ہیں۔

ثمر بلور نے صوبائی حکومت پر کرپشن کے سنگین الزامات بھی عائد کیے اور دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کے بھائی کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہ ہونے کے باوجود وہ صوبے کے معاملات چلا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صوبے میں متعدد منصوبے مکمل نہیں ہوئے جبکہ اربوں روپے کے ٹھیکوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

ثمر بلور نے میاں غازی کمپنی کو بڑے ٹھیکے دیے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں وزراء اور بیوروکریٹس کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے مختلف شعبوں میں مبینہ کرپشن کی شکایات موجود ہیں اور عوام کے پیسے کے استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

پریس کانفرنس میں رہنماؤں نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں