پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، پیٹرول 1 روپے 70 پیسے اور ڈیزل 3 روپے 12 پیسے فی لیٹر سستا ہوگیا۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے بعد پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 1.17 ڈالر کمی کے بعد 91.20 ڈالر فی بیرل، جبکہ برینٹ خام تیل 75 سینٹ کمی کے بعد 99.59 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
دوسری جانب مربن خام تیل کی قیمت 4.18 ڈالر اضافے کے بعد 114.20 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
حافظ نعیم الرحمن کا پٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنے جاری رکھنے کا اعلان، اسلام آباد مارچ چند روز کے لیے مؤخر
ملتان: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر دھرنے اور احتجاجی کیمپ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کا آخری موقع دیا جا رہا ہے، اگر پٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد ملتان ہی سے اسلام آباد مارچ شروع کر دیا جائے گا۔
ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک سے ٹیلیفون کرکے اسلام آباد لانگ مارچ چند روز کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی اور یقین دہانی کرائی کہ وطن واپسی پر جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کرکے پٹرولیم لیوی کے معاملے کا حل نکالیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی درخواست پر جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت سے مشاورت کے بعد اسلام آباد کی جانب روانگی میں چند روز کا وقفہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم ملک بھر میں جاری دھرنے اور احتجاجی کیمپ بدستور جاری رہیں گے اور کارکنان مکمل طور پر تیار رہیں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں واضح کر دیا ہے کہ جماعت اسلامی کا واحد مطالبہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔ اگر لیوی ختم نہ ہوئی تو اسلام آباد مارچ کا فوری آغاز ملتان سے ہی کیا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی جانب سے پٹرول پر 25 ارب روپے کے ریلیف کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام سے وصول کی جانے والی 1567 ارب روپے کی پٹرولیم لیوی کے مقابلے میں یہ رقم انتہائی کم ہے اور اسے عوامی ریلیف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حافظ نعیم الرحمن کے مطابق جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خلاف 16 اگست سے دھرنے شروع کیے، احتجاج کے دوران 510 مقامات پر سڑکیں بند کی گئیں جبکہ ملک کے 42 مقامات پر دھرنے جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے کئی ادوار میں حکومت کو لیوی کے خاتمے کے لیے تجاویز دی گئیں لیکن مسلسل ٹال مٹول کے بعد جماعت اسلامی نے ٹرین مارچ شروع کیا، جس کے دوسرے مرحلے کے ملتان میں اختتام پر وزیراعظم نے انہیں فون کیا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج پرامن ہے، کارکنان میدان میں موجود رہیں گے، دھرنوں اور احتجاجی کیمپوں کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کی حمایت کرتی ہے اور اس کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت کرتی ہے۔ حکومت علامہ راجہ ناصر عباس کی تجویز کو سنجیدگی سے لے اور پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالے۔
پریس کانفرنس میں امیر پنجاب جنوبی سید ذیشان اختر، امیر ملتان صہیب عمار صدیقی سمیت دیگر جماعتی رہنما بھی موجود تھے۔