سی ڈی اے نے بحریہ ٹاؤن فیز III-E اور IV کا لے آؤٹ پلان منسوخ کردیا، غیر قانونی تعمیرات کے خلاف انہدام کی کارروائی کا حکم
اسلام آباد: کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے بحریہ ٹاؤن فیز III-E اور IV، زون فائیو اسلام آباد کا منظور شدہ لے آؤٹ پلان فوری طور پر منسوخ کر دیا ہے۔ سی ڈی اے کے مطابق تقریباً 2,999 کنال پر مشتمل اس منصوبے کا لے آؤٹ پلان 2010 میں منظور ہوا تھا، تاہم تقریباً 15 سال گزرنے کے باوجود اسکیم کے لیے ضروری شرائط پوری کرکے این او سی حاصل نہیں کیا گیا۔
سی ڈی اے کے مطابق بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے این او سی کے حصول سے قبل ترقیاتی کام اور پلاٹوں کی فروخت شروع کی، جبکہ منظور شدہ لے آؤٹ پلان کی بعض شرائط کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔ اتھارٹی نے گزشتہ سال انتظامیہ کو پارکس، کھیل کے میدان، اوپن اسپیسز اور عوامی سہولیات کے لیے مختص پلاٹس خالی کرکے انہیں منظور شدہ لے آؤٹ کے مطابق بحال کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔
سی ڈی اے کے نوٹس میں وفاقی آڈٹ کے ایک پیرا کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں بحریہ ٹاؤن فیز III-E اور IV میں کارنیش روڈ کے ساتھ مبینہ غیر قانونی کمرشل تعمیرات کا ذکر کیا گیا۔ نوٹس کے مطابق بعض تعمیرات دریا کے بیڈ، قبرستان اور پارک/اوپن اسپیس کے لیے مختص اراضی پر ہونے کی نشاندہی کی گئی اور انہیں ہٹانے کی ہدایت سامنے آئی۔
لے آؤٹ پلان کی منسوخی کے ساتھ سی ڈی اے نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف دیگر زیرِ التوا معاملات کی منظوری بھی ڈیفالٹر ہونے کی بنیاد پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اتھارٹی نے اپنے انفورسمنٹ ونگ کو مذکورہ اسکیم میں تعمیر کیے گئے غیر مجاز کاموں، عمارات اور اسٹرکچرز کے خلاف انہدام/ہٹانے کی کارروائی کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
تاہم ایک اہم قانونی پہلو یہ ہے کہ لے آؤٹ پلان کی منسوخی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر گھر یا ہر کمرشل عمارت خودکار طور پر فوری طور پر مسمار کردی جائے گی؛ سی ڈی اے کا حکم غیر مجاز تعمیرات اور منظور شدہ پلان کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جبکہ متاثرہ فریق قانونی فورمز سے رجوع کرسکتا ہے۔ بحریہ ٹاؤن کے ایک نمائندے نے سی ڈی اے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی اسے عدالت سمیت متعلقہ فورمز پر چیلنج کرے گی۔
یہ بھی واضح رہے کہ سی ڈی اے کی سرکاری ویب سائٹ پر بحریہ ٹاؤن فیز II، III، V اور VI الگ اسکیم کے طور پر درج ہے اور اس کا این او سی 2001 میں جاری شدہ دکھایا گیا ہے؛ تازہ منسوخی کا نوٹس فیز III-E اور IV سے متعلق ہے۔ اس لیے تمام فیزز کو ایک ہی حکم کے تحت منسوخ شدہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
بحریہ ٹاؤن کے متاثرہ الاٹیز اور رہائشیوں کے لیے اب بنیادی سوال یہ ہے کہ سی ڈی اے کی کارروائی کے بعد ان کی جائیدادوں، رہائشی حقوق اور سرمایہ کاری کا قانونی و انتظامی مستقبل کیا ہوگا۔