سوڈا ایش ڈمپنگ کیس: مفادات کے ٹکراؤ کا الزام، او اے ایس آئی ایس کا وزیراعظم سمیت اعلیٰ حکام کو خط

این ٹی سی سیکرٹری خضر حیات کے بیٹے کے درخواست گزار کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر ہونے کا دعویٰ، سیکرٹری کی تحقیقات میں شرکت پر بھی اعتراض؛ آزادانہ انکوائری، دستاویزات سے علیحدگی اور تحقیقات تک معطلی کا مطالبہ

اسلام آباد: پاکستان میں صنعتی شعبے کو درپیش مشکلات کے دوران صنعتی مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم او اے ایس آئی ایس (Organization for Advancement & Safeguard of Industrial Sector) نے سوڈا ایش کی درآمد سے متعلق جاری اینٹی ڈمپنگ تحقیقات میں مبینہ مفادات کے ٹکراؤ، انتظامی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کے حوالے سے نیشنل ٹیرف کمیشن (NTC) کے چیئرمین کو شکایت ارسال کر دی ہے۔

3 اگست 2026 کو چیئرمین نیشنل ٹیرف کمیشن جاوید/جواد اویس آغا کے نام ارسال کیے گئے خط کی نقول وزیراعظم شہباز شریف سمیت وفاقی حکومت کے متعدد اعلیٰ حکام، وزارت تجارت، وزارت خزانہ، ایس آئی ایف سی اور این ٹی سی کے ارکان کو بھی بھجوائی گئی ہیں۔

خط میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ این ٹی سی کے موجودہ سیکرٹری خضر حیات کے صاحبزادے ایک ایسی کمپنی میں ایگزیکٹو عہدے پر فائز ہیں جو ترکیہ اور چین سے درآمد ہونے والی سوڈا ایش سے متعلق جاری دو تحقیقات میں بنیادی درخواست گزار کمپنی ہے۔

او اے ایس آئی ایس کا مؤقف ہے کہ اگر یہ صورتحال درست ہے تو نیشنل ٹیرف کمیشن ایکٹ کی دفعہ 24 کے تحت مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ کا معاملہ پیدا ہوتا ہے۔ تنظیم کے مطابق سیکرٹری این ٹی سی پر لازم تھا کہ وہ کسی بھی براہ راست یا بالواسطہ مفاد کو کمیشن کے سامنے ظاہر کرتے اور متعلقہ کارروائی سے خود کو الگ کرتے، تاہم خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

تحقیقات کے اجلاسوں میں شرکت پر اعتراض

شکایت میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ خضر حیات سوڈا ایش سے متعلق ان تحقیقات کے تقریباً تمام اہم اجلاسوں میں موجود رہے اور مبینہ طور پر اپنی رائے بھی دیتے رہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر سیکرٹری کے بیٹے کا درخواست گزار کمپنی سے واقعی براہ راست تعلق ہے تو ان کی جانب سے تحقیقات کے عمل میں شرکت تحقیقات کی شفافیت اور کمیشن کی ساکھ کے حوالے سے سوالات پیدا کرتی ہے۔

گریڈ 21 کے عہدے پر بھی سوال اٹھا دیا گیا

خط میں این ٹی سی سیکرٹری کی انتظامی حیثیت کے حوالے سے بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ او اے ایس آئی ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ خضر حیات اس وقت گریڈ 21 کی ٹائم اسکیل پوزیشن پر تعینات ہیں، جبکہ این ٹی سی کے منظور شدہ سروس اسٹرکچر میں ایسی گریڈ 21 پوزیشن موجود یا مجاز نہیں۔

خط کے مطابق وزارت تجارت کی جانب سے این ٹی سی کو اس معاملے میں ایک وضاحتی مراسلہ بھی جاری کیا گیا، جس میں مبینہ طور پر کہا گیا کہ کمیشن کے ارکان کے Management Position (MP) Scale میں منتقل ہونے کے بعد گریڈ 21 ختم ہو چکا تھا، تاہم شکایت کنندہ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس کے باوجود مذکورہ پوزیشن برقرار رکھی گئی۔

چیف اکنامسٹ کے عہدے کے بدلے تحقیقات پر اثرانداز ہونے کا الزام

او اے ایس آئی ایس نے خط میں ایک اور سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مبینہ مفادات کے ٹکراؤ کے علاوہ ایسی اطلاعات بھی موجود ہیں کہ درخواست گزار کمپنی کی جانب سے خضر حیات کو چیف اکنامسٹ مقرر کرنے میں معاونت کی پیشکش کی گئی، جبکہ اس کے بدلے سوڈا ایش سے متعلق تحقیقات کے نتائج کو کمپنی کے حق میں متاثر کرنے کے لیے انتظامی اثرورسوخ استعمال کرنے کا مبینہ انتظام موجود ہے۔

تنظیم نے اسے مفادات کے ٹکراؤ اور مبینہ quid pro quo arrangement قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ الزام درست ثابت ہوتا ہے تو یہ سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز کی خلاف ورزی اور ذاتی مفاد کے لیے سرکاری ادارے کے اختیارات استعمال کرنے کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

او اے ایس آئی ایس کے مطالبات

تنظیم نے نیشنل ٹیرف کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ:

* خضر حیات کے گریڈ 21 کے عہدے پر تعیناتی کی فوری، آزادانہ اور غیر جانب دار انکوائری کی جائے۔
* سیکرٹری این ٹی سی کو ترکیہ اور چین سے سوڈا ایش کی درآمد سے متعلق تمام فائلوں، اجلاسوں، غوروفکر اور کارروائی سے فوری طور پر الگ کیا جائے۔
* این ٹی سی ایکٹ کی دفعہ 24 کے تحت مبینہ مفادات کے ٹکراؤ کی تحقیقات کی جائیں۔
* چیف اکنامسٹ کے عہدے کے حوالے سے مبینہ quid pro quo انتظام کی بھی چھان بین کی جائے۔
* تحقیقات مکمل ہونے تک خضر حیات کو معطل کیا جائے تاکہ وہ مبینہ طور پر جاری تحقیقات کے نتائج پر اثرانداز نہ ہو سکیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ جاری تجارتی تحقیقات کی ساکھ، این ٹی سی کی قانونی حیثیت اور ادارے کو ممکنہ قانونی و انتظامی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری کارروائی ضروری ہے۔

اہم وضاحت: خط میں بیان کردہ مفادات کے ٹکراؤ، غیر قانونی گریڈ 21 تعیناتی اور quid pro quo سے متعلق نکات او اے ایس آئی ایس کے الزامات اور مطالبات ہیں؛ خط میں ان الزامات کے حتمی طور پر ثابت ہونے کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ متعلقہ افسر، این ٹی سی یا درخواست گزار کمپنی کا مؤقف اس دستاویز میں شامل نہیں، اس لیے خبر میں الزامات کو اسی حیثیت سے بیان کیا جانا مناسب ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں