سوشل ویلفیئر و بیت المال پنجاب میں مبینہ کروڑوں کی کرپشن، نیب کی شکایت پر انکوائری رپورٹ بھی سوالیہ نشان بن گئی
راولپنڈی (مسعود چوہدری): سوشل ویلفیئر و بیت المال پنجاب میں مختلف سماجی بہبود کے منصوبوں میں مبینہ طور پر لاکھوں، کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں کے معاملے میں دلچسپ اور تشویشناک صورتِ حال سامنے آئی ہے، جہاں نیب کی جانب سے تحقیقات کے لیے بھیجے گئے معاملے کی انکوائری رپورٹ ہی سوالات کی زد میں آگئی۔
ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے سوشل ویلفیئر و بیت المال فیصل آباد کی ڈائریکٹر خالدہ رفیق، ڈائریکٹر ایڈمن فائز احمد نعیم اور دیگر افسران کے خلاف کرپشن کی شکایت پر ابتدائی تحقیقات کے لیے معاملہ پنجاب حکومت کے اکاؤنٹیبلٹی فسیلیٹیشن سیل کو بھجوایا تھا۔
نیب لاہور کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے چیف سیکریٹری پنجاب کو ارسال کردہ خط کے مطابق شکایت کمپلینٹ ڈائری نمبر 2955/26 کے تحت زیرِ کارروائی تھی۔ شکایت میں اولڈ ایج ہوم، دارالامان، صنعت زار، قصرِ بہبود، جیل پراجیکٹ، میڈیکل پراجیکٹ اور ماڈرن چلڈرن ہوم سمیت مختلف فلاحی منصوبوں میں سرکاری فنڈز کی مبینہ خرد برد کے الزامات عائد کیے گئے۔
شکایت کے مطابق متعدد فلاحی منصوبوں کی خریداری مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے مرکزی سطح پر منتقل کی گئی، ٹینڈر کے عمل میں مبینہ ردوبدل کیا گیا اور ناقص معیار کی اشیا خریدے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے۔ اس کے علاوہ مبینہ کک بیکس، اداروں کو ناقص سامان کی فراہمی، سرکاری گاڑیوں کے مبینہ غلط استعمال اور سرکاری وسائل کے ناجائز استعمال کے الزامات بھی شکایت کا حصہ تھے۔
ذرائع کے مطابق نیب لاہور نے الزامات کی صداقت جانچنے کے لیے اکاؤنٹیبلٹی فسیلیٹیشن سیل کو پوائنٹ وائز جامع رپورٹ، سرکاری ریکارڈ اور شواہد حاصل کرکے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی ہدایت کی تھی۔
تاہم معاملہ اس وقت نیا رخ اختیار کر گیا جب مذکورہ انکوائری ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر راولپنڈی رانا شاہد کے سپرد کی گئی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رانا شاہد کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ میں مجموعی طور پر ’’سب اچھا ہے‘‘ کی تصویر پیش کی گئی اور متعلقہ افسران کو بھی کلین چٹ دینے کی کوشش کی گئی۔
ذرائع کے مطابق انکوائری کے دوران متعدد افسران کے بیانات کو رپورٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا، جبکہ بعض متعلقہ افسران کی تعریف بھی رپورٹ میں شامل کی گئی۔ اکاؤنٹیبلٹی فسیلیٹیشن سیل نے مبینہ طور پر اس انکوائری رپورٹ کی شفافیت اور طریقہ کار کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ اب پنجاب بیوروکریسی کے اندر ایک تنازع کی شکل اختیار کرچکا ہے، جہاں مبینہ طور پر بااثر افسران ایک دوسرے کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ چیف سیکریٹری پنجاب اور متعلقہ سیکریٹری محکمہ بھی معاملے پر شش و پنج کا شکار ہیں۔
اہم سوال یہ ہے کہ نیب کی جانب سے سنگین نوعیت کے الزامات کی نشاندہی کے بعد ہونے والی انکوائری میں تمام متعلقہ افسران کے بیانات اور شواہد کو شامل کیا گیا یا نہیں، اور اگر نہیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ معاملے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہی اصل حقائق سامنے لاسکتی ہیں۔