پاکستان روایتی طب کو قومی صحت کے نظام میں شامل کرنے کے لیے پرعزم، چینی ٹیکنالوجیز کا خواہاں

پاکستان روایتی طب کو قومی صحت کے نظام میں شامل کرنے کے لیے پرعزم، چینی ٹیکنالوجیز کا خواہاں
نان چھانگ (شِنہوا) عالمی ادارہ صحت کی روایتی طب کی فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چائنہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر محمد شہباز نے کہا ہے کہ “پاکستان آنے والی قومی صحت اور آبادیاتی پالیسی (2026-2035) کے تحت روایتی طب کو اپنے قومی صحت کے نظام میں جامع طور پر ضم کرنے کا عمل تیز کر رہا ہے اور اس میں معاونت کے لیے چین کی نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرانے کا منتظر ہے”۔
حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے روایتی طب سے متعلق فورم سے خطاب کرتے ہوئےمحمد شہباز نے کہا کہ 2026 پاکستان کی صحت عامہ کی پالیسی میں اصلاحات کے حوالے سے ایک انتہائی اہم سال ہے۔
دوا سازی کی صنعت کو فروغ دینے اور عالمی طبی ترقی کے رجحانات سے ہم آہنگ رہنے کے مقصد کے تحت پاکستان صحت عامہ کی پالیسی میں اصلاحات کرے گا اور قومی صحت و آبادیاتی پالیسی (2026-2035) مرتب کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس پالیسی میں روایتی طب کو پاکستان کے قومی صحت کے نظام میں مکمل طور پر شامل کر لیا گیا ہے۔
محمد شہباز کے مطابق پاکستانی حکومت روایتی طب کی ترقی کو بہت اہمیت دیتی ہے اور اس نے ادارہ جاتی ڈیزائن، مصنوعات کے انتظام، تعلیم و رسائی اور معیارات کے تعین کو مربوط بنانے کے ساتھ ساتھ روایتی طب کے جدید شواہد پر مبنی طب کے نظام کے ساتھ اس کے انضمام کو فروغ دینے کے لیے ایک قومی روایتی طب کا مرکز قائم کیا ہے۔
محمد شہباز نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں دیہی و زرعی آبادی کا تناسب زیادہ ہے اور روایتی جڑی بوٹیوں کے بھرپور طبی وسائل موجود ہیں لیکن تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں ادویاتی پودوں کو مئوثر طریقے سے قابل استعمال مصنوعات میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ادویاتی پودوں کے تحفظ اور خام مال کے حصول کے لیے ایک اتحاد قائم کرنے کی غرض سے زراعت، فارماسیوٹیکل انڈسٹری اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
محمد شہباز نے کہا کہ پاکستان خاص طور پر ادویاتی مواد کے حصول، معیاری پیداوار اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں چین کی نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرانے کا منتظر ہے تاکہ روایتی طب کی تحقیق، ترقی اور پیداوار کی سطح کو بہتر بنایا جا سکے اور پاکستانی عوام روایتی چینی طب کی مزید مصنوعات سے مستفید ہو سکیں۔
محمد شہباز نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان دیرینہ دوستی ہے اور روایتی طب کے شعبے میں پاکستان کے چین کے ساتھ گہرے تعاون پر مبنی تعلقات ہیں۔ پاکستان چینی روایتی طب کے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون قائم کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے اور سائنسی تحقیق، طبی عملے کی تربیت، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تعلیمی تبادلوں اور تعلیمی ترقی میں دوطرفہ تعاون مزید گہرا کرنے کے لیے 2026 میں چینی روایتی طب کے معیارات سے مزید استفادہ کرنے کا منتظر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے روایتی چینی طب کو دائمی برونکائٹس کے علاج کے لیے دی جانے والی پیشگی منظوری پاک چین طبی تعاون کا نمونہ بن چکی ہے۔
محمد شہباز نے آخر میں ایس سی او اور تمام ممالک کی حکومتوں سے درخواست کی کہ وہ عملی تعاون میں اضافہ کریں، مشترکہ طور پر ایک صحت اور طبی راہداری، یونیورسٹی کے تربیتی مراکز اور ہسپتال قائم کریں اور روایتی طب کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے فائدہ مند بنانے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بِگ ڈیٹا کے پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں