کراچی کو بااختیار انتظامی یونٹ یا صوبہ بنایا جائے، کراچی نیشنل موومنٹ
کراچی والے غدار نہیں، پاکستانی ہیں، انہیں سزا دینے کا سلسلہ بند کیا جائے، رہنما
اسلام آباد (سٹی رپورٹر) کراچی نیشنل موومنٹ کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو اس کی آبادی، معاشی اہمیت اور قومی خدمات کے مطابق بااختیار انتظامی یونٹ یا صوبے کا درجہ دیا جائے، جبکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات، سیاسی اختیار اور وسائل پر مؤثر حق دیا جائے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کراچی نیشنل موومنٹ کے کنوینئر اشرف جبار قریشی، مہاجر اتحاد تحریک کے سربراہ ڈاکٹر سلیم حیدر، سابق مشیر وزیراعظم سردار اقبال، چیئرمین کراچی گرینڈ الائنس اسلم خان، چیئرمین فیڈرل ٹریٹری الائنس ظفر الجمیل شیخ اور وائس چیئرمین گرینڈ الائنس سید یوسف امام نے کہا کہ کراچی منی پاکستان اور ملک کا معاشی، تجارتی و صنعتی مرکز ہے، تاہم طویل عرصے سے شہر کو اس کی اہمیت کے مطابق وسائل، اختیارات اور سہولیات نہیں مل رہیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ کراچی کو 1967ء میں دارالحکومت کی منتقلی کے بعد مسلسل نظر انداز کیا گیا، جبکہ 1986ء کے بعد لسانی سیاست اور بدامنی نے شہر کے سماجی، معاشی اور تعلیمی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے باعث ہزاروں خاندان متاثر ہوئے جبکہ نوجوانوں کے لیے تعلیم، روزگار اور کاروبار کے مواقع بھی محدود ہوئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جدوجہد کسی پنجابی، سندھی، مہاجر یا پختون کے خلاف نہیں بلکہ کراچی میں آباد تمام شہریوں کے حقوق کے لیے ہے۔
کراچی نیشنل موومنٹ کے رہنماؤں نے کہا کہ “کراچی والے غدار نہیں، پاکستانی ہیں اور انہیں سزا دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔” ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام مزید کسی لسانی سازش کا شکار نہیں ہونا چاہتے اور شہر میں گروہی، لسانی و فرقہ وارانہ سیاست کے بجائے قومی سیاست کو فروغ دیا جانا چاہیے۔
رہنماؤں کے مطابق کراچی کے موجودہ سیاسی و انتظامی نظام میں پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ، سڑکوں، بجلی، سیوریج، کچرے اور امن و امان سمیت اہم معاملات مختلف اداروں میں تقسیم ہیں، جس کے باعث نہ کسی ایک ادارے کے پاس مکمل اختیار ہے اور نہ ہی واضح جواب دہی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کو ایسے جامع اور بااختیار انتظامی نظام کی ضرورت ہے جس میں اختیارات، وسائل اور جواب دہی واضح ہو۔ صوبائی حیثیت کی صورت میں کراچی اپنے وسائل، بجٹ اور ترقیاتی ترجیحات کو براہ راست شہری ضروریات کے مطابق استعمال کرسکے گا اور منتخب حکومت عوام کے سامنے جواب دہ ہوگی۔
رہنماؤں نے کہا کہ کراچی ملک کی معیشت، تجارت، صنعت، بندرگاہوں اور مالیاتی نظام میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ شہر کو جدید انفرا اسٹرکچر، مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ، مستقل پانی و بجلی، بہتر امن و امان اور بااختیار مقامی حکومت فراہم کی جائے تو اس کے فوائد پورے پاکستان کو حاصل ہوں گے۔
انہوں نے کراچی میں حالیہ سانحات اور شہریوں کے تحفظ میں مبینہ ناکامی پر بھی سوالات اٹھائے اور مطالبہ کیا کہ گل پلازہ سانحے سمیت کراچی میں ہونے والے حادثات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
رہنماؤں نے کہا کہ کسی بھی صوبے کو کسی ایک لسانی گروہ کی ملکیت قرار نہیں دیا جاسکتا، وہاں آباد تمام شہری برابر کے حقوق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل زبان، نسل یا قومیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ تاریخی، جغرافیائی، انتظامی اور معاشی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔
کراچی نیشنل موومنٹ نے مطالبہ کیا کہ شہر کی انتظامی و سیاسی قیادت میں تبدیلی لاکر کراچی کے حقیقی مسائل کو سمجھنے والی بااختیار قیادت سامنے لائی جائے۔ رہنماؤں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کے دوران امن و امان کو خصوصی اہمیت دی جائے اور کسی بھی ممکنہ بدامنی سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ “ہم کراچی سے کسی لسانی تقسیم کے لیے نہیں بلکہ قومی یکجہتی کے لیے آئے ہیں۔ ہمارا مطالبہ کراچی کے شہریوں کے لیے اختیار، وسائل اور جواب دہی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ کراچی کو بااختیار انتظامی اکائی بنانے کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا نہیں بلکہ ملک کے سب سے بڑے معاشی مرکز کو مزید مضبوط بنانا ہے، اس لیے کراچی کو صوبہ بنانے کی بحث کو لسانی یا نسلی تنازع کے بجائے انتظامی اصلاحات، بہتر حکمرانی اور عوامی اختیار کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔