پشاور: شاندانہ گلزار کی پریس کانفرنس، پمز سانحے اور بانی پی ٹی آئی کے معاملے پر حکومت کو شدید تنقید

پشاور: شاندانہ گلزار کی پریس کانفرنس، پمز سانحے اور بانی پی ٹی آئی کے معاملے پر حکومت کو شدید تنقید

پشاور: رہنما پی ٹی آئی شاندانہ گلزار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی اموات کے معاملے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

شاندانہ گلزار نے دعویٰ کیا کہ پمز اسپتال میں بچوں کے جاں بحق ہونے کے درست اعداد و شمار سامنے نہیں لائے جا رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “پمز میں 15 بچوں کو جلا دیا گیا” اور حکومت صرف انکوائریاں کرانے کا کھیل کھیل رہی ہے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ پمز کے 23 ڈاکٹروں نے نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے خلاف شکایت بھی کی تھی۔ ان کے مطابق وزیر صحت گزشتہ روز نجی محافل میں کہہ رہے تھے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو عہدے سے نہ ہٹانے کی ہدایت کی تھی۔

شاندانہ گلزار نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور علاج کے معاملے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ قیدیوں کو علاج کی سہولت حاصل کرنا ان کا حق ہے، تاہم بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے بجائے پمز لے جایا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ شفا اسپتال کے راستے بند ہونے کا مؤقف درست نہیں اور بانی پی ٹی آئی کی شفا منتقلی کی خبر دنیا کے بڑے اخبارات تک پہنچ چکی تھی۔

شاندانہ گلزار نے کہا کہ “پاکستان کو بچانا ہے تو بانی پی ٹی آئی کو بچانا ہوگا” اور ان کے بقول موجودہ حکومت میں 25 کروڑ پاکستانی عوام کو مشکلات میں ڈال دیا گیا ہے۔

انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ پر بھی سیاسی الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی حکومت جنرل (ر) باجوہ نے گرائی جبکہ نواز شریف کو بھی بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ انہی کے دور میں ہوا۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے احکامات کی بھی اہمیت نہیں سمجھ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ “نشانہ بانی پی ٹی آئی ہے لیکن پاکستان ہے” اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ “بانی پی ٹی آئی نہیں تو پاکستان نہیں ہے۔”

پمز سانحے پر سوال اٹھاتے ہوئے شاندانہ گلزار نے کہا کہ کیا آگ صرف غریبوں کے اسپتالوں میں ہی لگتی ہے؟ انہوں نے قائداعظم کی وفات کی انکوائری کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے سوال کیا کہ آج تک اس کا کیا نتیجہ سامنے آیا۔

آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے شاندانہ گلزار نے سوال اٹھایا کہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے، “کیا وہ کسی کے بچے نہیں؟”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں