انفارمیشن گروپ کے گریڈ 19 تا 21 افسران کی ترقیوں کی تیاریاں، حتمی فیصلہ سینٹرل سلیکشن بورڈ کرے گا
اسلام آباد: انفارمیشن گروپ کے گریڈ 19 سے 21 تک کے افسران کی ترقیوں کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تیاریاں شروع کردی ہیں، تاہم ترقیوں کا حتمی فیصلہ سینٹرل سلیکشن بورڈ کے آئندہ اجلاس میں کیا جائے گا، جبکہ گریڈ 22 کی ایک خالی نشست پر ترقی کا معاملہ ہائی پاورڈ بورڈ کے اجلاس میں زیر غور آنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ پلان کے تحت گریڈ 20 سے 21 میں 3 سے 4 افسران، گریڈ 19 سے 20 میں 19 سے 20 افسران جبکہ گریڈ 18 سے 19 میں 15 سے 20 افسران کی ترقی متوقع ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے ترقی کے لیے اہل افسران کے کوائف اور ضروری ریکارڈ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھجوایا جا چکا ہے، تاہم بعض افسران کا ریکارڈ تاحال نامکمل بتایا جاتا ہے۔
گریڈ 21 کے افسران ثمینہ فرزین اور طارق خان بالترتیب 30 دسمبر 2026 اور یکم جنوری 2027 کو ریٹائر ہوں گے، جس کے بعد گریڈ 21 کی دو نشستیں خالی ہونے کا امکان ہے۔ ستمبر میں سینٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس ہونے کی صورت میں یہ دو نشستیں اور ایک ڈی ٹی ایل نشست وزارت اطلاعات کو ملنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر سینٹرل سلیکشن بورڈ سے قبل ہائی پاورڈ بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا تو گریڈ 22 کی ایک خالی نشست پر انفارمیشن گروپ کے گریڈ 21 کے کسی افسر کی ترقی کا معاملہ بھی زیر غور آسکتا ہے۔
انفارمیشن گروپ کے گریڈ 21 کے افسران میں طارق محمود اور محمد ارشد منیر ترقی کے لیے زیر غور آنے والے ناموں میں شامل ہیں۔ طارق محمود یکم جنوری 2027 کو ریٹائر ہونے والے ہیں، جبکہ محمد ارشد منیر 26 اگست 2024 سے وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ایڈیشنل سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
دوسری جانب گریڈ 20 کے سینئر افسر چوہدری طاہر حسن 2 ستمبر 2026 کو ریٹائر ہونے والے ہیں۔ ان کی ترقی کا معاملہ بھی ماضی میں عدالتی کارروائی اور متعلقہ رپورٹس کے تناظر میں زیر بحث رہا ہے۔
گریڈ 21 میں ترقی کے لیے سینیارٹی لسٹ
ذرائع کے مطابق اگر انفارمیشن گروپ کو گریڈ 21 میں ترقی کے لیے چار نشستیں ملتی ہیں تو سینیارٹی کے مطابق متعدد افسران کے کیسز ہائی پاورڈ بورڈ کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ ان میں منظور علی میمن، محمد عاصم کھچی، عائشہ تصدق، مبشر حسن، شفقت عباس، محمد اورنگزیب ہرل اور بشریٰ بشیر شامل ہیں۔
منظور علی میمن یکم اکتوبر 2023 سے بیجنگ میں پریس منسٹر کے طور پر تعینات ہیں، جبکہ محمد عاصم کھچی حال ہی میں اے پی پی کے منیجنگ ڈائریکٹر کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوئے ہیں اور نئی تعیناتی کے منتظر ہیں۔
عائشہ تصدق پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ مبشر حسن ماضی میں پرنسپل انفارمیشن آفیسر کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
شفقت عباس 15 جولائی 2024 سے ڈائریکٹر جنرل پی آئی ڈی لاہور کے طور پر تعینات ہیں، جبکہ محمد اورنگزیب ہرل اس وقت پریس رجسٹرار کے عہدے پر کام کر رہے ہیں۔ بشریٰ بشیر نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور میں ڈیپوٹیشن پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
گریڈ 19 کے متعدد افسران بھی ترقی کے منتظر
گریڈ 19 کی سینیارٹی لسٹ میں ڈاکٹر مریم شیخ، آصف الرحمان خان، سجیلہ نوید، سیدہ نگہت عامر، طاہر نواز، داؤد احتشام، زوبیہ مسعود، سرفراز حسین، فرحت جبین، نگہت احسان، حنا فردوس، سید خضر علی شاہ، شہناز اختر، صبین عثمان خٹک، حمزہ سلیم گیلانی، شبیہ عباس، فاطمہ شیخ، فرخ رفیق، شبیر اللہ، محمد فصیح اللہ، محمد عرفان، مولا بخش سولنگی، شہاب حامد اور محمد عامر رضا شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈیپوٹیشن اور بیرون ملک تعیناتی پر موجود بعض افسران کے کیسز میں اگلے گریڈ میں ترقی کے امکانات نشستوں، سروس ریکارڈ اور دیگر متعلقہ شرائط سے منسلک ہوں گے۔
سینٹرل سلیکشن بورڈ میں گریڈ 19 سے 20 اور گریڈ 20 سے 21 کی ترقیوں کے فیصلے کے بعد گریڈ 17 اور 18 کے افسران کے کیسز بھی اگلے گریڈ میں ترقی کے لیے مرحلہ وار زیر غور آنے کا امکان ہے۔
ترقی کے لیے اے سی آر اور کلیئرنس لازمی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق اگلے گریڈ میں ترقی کے لیے سالانہ کارکردگی رپورٹ، متعلقہ سروس ریکارڈ اور دیگر مطلوبہ کوائف کے ساتھ ویٹنگ ایجنسیز کی کلیئرنس بھی ضروری ہے۔ گزشتہ سینٹرل سلیکشن بورڈ میں بعض افسران کے کیسز منفی رپورٹس کی بنیاد پر ترقی کی فہرست سے خارج کیے گئے تھے، جبکہ متعلقہ افسران کی کارکردگی کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔
گریڈ 18 کی سینیارٹی لسٹ میں بھی متعدد افسران شامل ہیں، جن کے کیسز گریڈ 19 کی ترقیوں کے بعد متعلقہ قواعد کے مطابق زیر غور آنے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد حالیہ عرصے میں انفارمیشن گروپ کی گریڈ 20 کی 12، گریڈ 19 کی 12 اور گریڈ 18 کی 16 نشستوں میں اضافہ کیا جا چکا ہے، جس کے بعد گروپ میں ترقیوں کے لیے مزید مواقع پیدا ہوئے ہیں۔