پشاور میں جشن عید میلاد النبی ﷺ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا خطاب

پشاور میں جشن عید میلاد النبی ﷺ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا خطاب

پشاور: صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت خیبرپختونخوا بھر میں 12 ربیع الاول، یوم ولادت باسعادت خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ مختلف مقامات پر محافل میلاد، نعت خوانی اور ذکر و اذکار کی محافل منعقد ہوئیں، جبکہ عاشقان رسول ﷺ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی رحمة للعالمین ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج تمام جہانوں کے لیے رحمت کی دنیا میں آمد کا دن ہے جو پوری انسانیت کے لیے خوشی کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ خاتم النبیین اور رحمت للعالمین ہیں، آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ نبی کریم ﷺ ہمارے دلوں میں بستے ہیں اور آپ ﷺ کی شان میں گستاخی سے ہمارے دل زخمی ہوتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیرت طیبہ ﷺ تمام انسانوں کے لیے مشعل راہ اور دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ تحفظ ناموس رسالت ﷺ ہمارا ایمان ہے اور ہم اس کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے رحمت للعالمین اتھارٹی قائم کی تاکہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو دنیا بھر میں اجاگر کیا جا سکے۔ ان کے مطابق عمران خان نے دنیا کے سامنے ناموس رسالت ﷺ کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا۔

انہوں نے مسلم دنیا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج بدقسمتی سے مسلم ممالک اپنا مقام بھول چکے ہیں، مسلمان تعداد میں بہت زیادہ ہیں لیکن متحد نہیں۔ مسلمانوں نے ایمان کی طاقت سے جنگیں جیتیں، تعداد کے زور پر نہیں، اس لیے آج پھر اسی غیرت ایمانی کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئی حکمران کسی طاقتور کے خلاف بات نہیں کرتا کہ کہیں اس کا دنیوی آقا ناراض نہ ہوجائے۔ سوال یہ ہے کہ غیر مسلم ممالک ایٹمی ہتھیار بنائیں تو خطرہ نہیں، لیکن مسلمان طاقت حاصل کرے تو اسے خطرہ کیوں سمجھا جاتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو سوچنا ہوگا کہ مسلم تنظیمیں آج فعال کیوں نہیں اور ہم متحد کیوں نہیں۔ ہمارا ایمان کمزور ہے، جب ہم زمینی خداؤں کے پیروکار بنیں گے تو ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ نہیں کہہ سکیں گے۔

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ کہنے پر نااہل کرکے جیل بھیج دیا جاتا ہے کیونکہ انہیں اختلاف سننے کی عادت نہیں۔ مسلمان اسی وقت غالب رہیں گے جب اسلام پر کاربند ہوں گے، مگر ہم اسلام تو کیا انسانیت بھی بھول چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے ملک میں بدعنوانی اور نظامِ انصاف پر بھی تنقید کی اور کہا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اسلام میں قصاص کا نظام ہے، مگر یہاں کتنے معصوم لوگ مار دیے جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے امن کے لیے 80 ہزار سے زائد جانیں قربان کیں، مگر آج بھی بند کمروں کے فیصلوں کی وجہ سے لوگ شہید ہو رہے ہیں۔ اتنے بڑے نقصان کے باوجود کسی کو کوئی پروا نہیں اور غلطی پر غلطی کی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس وقت نہ عملاً اسلام ہے نہ جمہوریت۔ ہماری جدوجہد پاکستان کو حقیقی معنوں میں آزاد، اسلامی، فلاحی اور جمہوری ملک بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدل و انصاف وہ طاقتور ترین ہتھیار ہے جو ہمارے نبی کریم ﷺ نے ہمیں سکھایا۔ زندگی، موت، عزت اور ذلت رب کے ہاتھ میں ہے، پھر کسی غیر کے سامنے جھکنے کی کیا ضرورت ہے۔ ایمان کی طاقت سے ظالم کے سامنے کھڑے ہوں تو اللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے گا۔

پمز ہسپتال اسلام آباد کے المناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ معصوم بچوں کا کیا قصور تھا، آخر یہ سب کس کی غفلت سے ہوا؟ انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام عوامی مقامات پر حفاظتی انتظامات بہترین بنانے کی ہدایت کی گئی ہے اور پمز جیسے ہسپتال میں اس طرح کے واقعے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اقتدار میں آتے ہی سود کے خلاف اقدامات کیے گئے ہیں اور صوبے کو سود سے پاک کریں گے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ کریں اور اس پر عمل کریں، اسی میں کامیابی ہے۔

پشاور میں جشن میلاد کے جلوس

دوسری جانب پشاور میں جشن عید میلاد النبی ﷺ کی مناسبت سے شہر بھر میں مختلف محافل اور تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ میلاد ہاؤس گلبہار میں جشن عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں کیک کاٹا گیا، جس کے بعد مرکزی جلوس میلاد ہاؤس سے برآمد ہوا۔

جلوس کی گزرگاہوں کو خوبصورت برقی قمقموں، سبز پرچموں اور جھنڈیوں سے سجایا گیا تھا۔ شہر میں جگہ جگہ ذکر و اذکار اور محافل نعت کا اہتمام کیا گیا، جبکہ جلوس کے شرکاء درود و سلام کا ورد اور نعت خوانی کرتے ہوئے مقررہ راستوں پر گامزن رہے۔

مرکزی جلوس اپنے طے شدہ روایتی راستوں سے ہوتا ہوا شیخ جنید بابا پر اختتام پذیر ہوا، جہاں شرکاء اور عقیدت مندوں کے لیے لنگر کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔

وزیر اطلاعات اور گورنر کے پیغامات

وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے یوم ولادت باسعادت کے موقع پر پوری امت مسلمہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت پوری انسانیت کے لیے رحمت، برکت اور مسرت کا پیغام لے کر آئی۔

انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کی تعلیمات رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مکمل اور جامع ضابطہ حیات ہیں اور ان پر عمل پیرا ہوکر ہی دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ریاست مدینہ کے سنہری اصولوں کو اپنا کر ایک ترقی یافتہ، فلاحی اور اسلامی معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی پوری قوم اور امت مسلمہ کو عید میلاد النبی ﷺ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت انسانیت کے لیے رحمت، ہدایت، محبت اور امن کا ابدی پیغام لے کر آئی۔

فیصل کریم کنڈی کے مطابق سیرت طیبہ ﷺ زندگی کے ہر شعبے میں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کو علم و شعور، عدل و انصاف، اخوت و مساوات، برداشت اور باہمی احترام کا درس دیا۔

گورنر نے کہا کہ سیرت رسول ﷺ ہمیں نفرت، تعصب اور انتہا پسندی سے اجتناب کرتے ہوئے معاشرے میں امن، رواداری، بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا درس دیتی ہے۔ آج ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں