پٹرولیم لیوی ختم، بجلی سستی اور روٹی 10 روپے کی جائے، حافظ نعیم الرحمن

پٹرولیم لیوی ختم، بجلی سستی اور روٹی 10 روپے کی جائے، حافظ نعیم الرحمن

مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو احتجاجی تحریک مزید وسیع، 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

لاہور، 24 اگست 2026: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے پٹرولیم لیوی کے خاتمے، بجلی کی قیمتوں میں کمی، روٹی کی قیمت 10 روپے مقرر کرنے اور گندم کی امدادی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔

وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے کے نویں روز شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 12 ربیع الاول کو دھرنوں میں سیرت کانفرنسز منعقد کی جائیں گی، جبکہ 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 29 اگست سے بلوچستان میں بھی دھرنوں کا آغاز ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج سے حکومت میں کھلبلی مچ گئی ہے، تاہم یہ تحریک رکنے والی نہیں۔ اگر عوام کا سمندر سڑکوں پر نکل آیا تو حکمرانوں کے لیے اسے سنبھالنا ممکن نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم لیوی سمیت مختلف ٹیکسز کے ذریعے عوام پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔ پٹرولیم لیوی ناجائز بھتہ ہے، اسے ختم کیا جائے، ورنہ حکومت ختم ہوجائے گی۔ ان کے بقول حکومت لیوی کی مد میں ہزاروں ارب روپے وصول کرچکی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے بجلی کے نرخوں اور آئی پی پیز کے معاہدوں پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر فکسڈ چارجز اور مہنگی بجلی مسلط کرکے مخصوص مافیاز کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود آئی پی پیز کو اربوں روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکمران اپنی عیاشیاں کم کریں۔ ان کے بقول حکمران کروڑوں روپے کی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں جبکہ غریب عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں غربت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کے مسائل بھی برقرار ہیں۔ پنجاب کے تعلیمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں سرکاری اسکول آؤٹ سورس کیے جا رہے ہیں اور بڑی تعداد میں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔

کسانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب کا کسان شدید مشکلات کا شکار ہے۔ گندم کے کاشتکاروں کو پوری قیمت نہیں مل رہی جبکہ کپاس کی فصل بھی حکومتی پالیسیوں سے متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گندم کی امدادی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کی جائے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے 14 روزہ دھرنے کے نتیجے میں عوام کو بجلی کے معاملے میں ریلیف ملا تھا، لیکن حکمران عوام کی خاموشی کا فائدہ اٹھا کر مزید بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے جماعت اسلامی کی تحریک کا حصہ بنیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن احتجاج پر یقین رکھتی ہے، تاہم حکومت اسے کمزوری نہ سمجھے۔ جماعت اسلامی ملک بھر کی سڑکیں بند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں اور تاجر تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ عوام کے حقوق کے لیے جماعت اسلامی کے دھرنوں کا ساتھ دیں۔

لاہور کے علاوہ کراچی اور پشاور میں بھی دھرنے کے نویں روز شدید گرمی کے باوجود ہزاروں افراد شریک ہوئے، جبکہ اسلام آباد اور اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاجی کیمپوں میں بھی عوام کی بڑی تعداد موجود رہی۔ مظاہرین نے پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ موجودہ نظام عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے، اب صرف شاخیں اور پتے کاٹنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ظالم نظام کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی عوام کے ساتھ مل کر ملک میں تبدیلی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں