قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی کی کارروائی کے نتیجے میں ضلع ٹھٹھہ کے علاقے دھابیجی میں 435 ایکڑ قیمتی سرکاری اراضی کی لیز منسوخ کردی گئی

دھابیجی میں 435 ایکڑ سرکاری زمین کی لیز منسوخ، اراضی حکومت سندھ کو واپس

کراچی: قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی کی کارروائی کے نتیجے میں ضلع ٹھٹھہ کے علاقے دھابیجی میں 435 ایکڑ قیمتی سرکاری اراضی کی لیز منسوخ کردی گئی۔ محکمہ لینڈ یوٹیلائزیشن حکومت سندھ نے 20 اگست 2026 کو باقاعدہ حکم نامہ جاری کرتے ہوئے مذکورہ اراضی کے لیز حقوق اور متعلقہ ریکارڈ میں کی گئی اندراجات منسوخ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

دستیاب سرکاری دستاویز کے مطابق یہ معاملہ میسرز دھابیجی سالٹ ورکس (پرائیویٹ) لمیٹڈ سے متعلق ہے، جس کی جانب سے دھابیجی، تعلقہ میرپور ساکرو، ضلع ٹھٹھہ میں 435 ایکڑ غیر سروے شدہ سرکاری زمین کی لیز حاصل کی گئی تھی۔

محکمہ لینڈ یوٹیلائزیشن کے حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ اراضی سے متعلق لیز کے معاملے کی تفصیلی جانچ پڑتال کے دوران سامنے آنے والے ریکارڈ اور دستاویزات کا جائزہ لیا گیا۔ کمپنی کو 16 جون 2025 کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا، جس میں لیز معاہدے کی شرائط و ضوابط کی خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب کی گئی، تاہم مقررہ مدت گزرنے کے باوجود جواب موصول نہیں ہوا۔

سرکاری حکم نامے کے مطابق 8 فروری 2023 کو مزید 30 سال کے لیے نمک کی تیاری کے مخصوص مقصد کے تحت لیز کی تجدید سے متعلق خط بھی جاری کیا گیا تھا، تاہم فائل کی جانچ میں یہ امر سامنے آیا کہ اس مقصد کے لیے وزیر اعلیٰ کی منظوری کی حمایت میں کوئی باقاعدہ سمری پیش نہیں کی گئی تھی۔

ایکوا کلچر کے نام پر مبینہ جعلی دستاویز

محکمہ لینڈ یوٹیلائزیشن کی دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ 16 اپریل 2025 کا وہ خط، جس کے ذریعے مذکورہ زمین کو ایکوا کلچر فارمنگ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ظاہر کی گئی تھی، فائل کی جانچ کے دوران جعلی، بوگس، من گھڑت اور تیار کردہ دستاویز پایا گیا۔

حکم نامے کے مطابق محکمہ ثقافت حکومت سندھ اور اطالوی آثار قدیمہ مشن نے بھی دھابیجی سالٹ ورکس کی جانب سے جھینگا فارمنگ کے باعث تاریخی بھنبھور آثار قدیمہ کے مقام کو ممکنہ نقصان پہنچنے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس معاملے میں چیف سیکرٹری سندھ سے کارروائی کی درخواست کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کے حکم کا بھی حوالہ

محکمہ لینڈ یوٹیلائزیشن نے اپنے حکم میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے 28 نومبر 2012 کے ازخود نوٹس کیس نمبر 16/2011 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اراضی کی مختلف اقسام کی الاٹمنٹ، لیز یا تبدیلی پر مکمل پابندی عائد کی گئی تھی۔

حکم نامے میں واضح کیا گیا کہ اس قانونی صورتحال کے پیش نظر 30 سال کے لیے نمک کی تیاری کے مخصوص مقصد سے لیز کی تجدید کا 2 مارچ 2023 کا فیصلہ منسوخ کیا جاتا ہے۔

اسی طرح 16 اپریل 2025 کے جعلی خط کے ذریعے زمین کے استعمال کا مقصد تبدیل کرکے ایکوا کلچر فارمنگ کرنے کی کوشش کو بھی قانون کی نظر میں کالعدم قرار دیا گیا ہے اور اسے جعلی دستاویز تصور کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

435 ایکڑ اراضی حکومت سندھ کو واپس

محکمہ لینڈ یوٹیلائزیشن کے حکم کے مطابق دھابیجی سالٹ ورکس کے نام 435 ایکڑ غیر سروے شدہ سرکاری زمین سے متعلق ریکارڈ آف رائٹس میں کیے گئے اندراجات اور بعد ازاں ہونے والے تمام لین دین منسوخ کردیئے گئے ہیں۔

حکم نامے میں ہدایت کی گئی ہے کہ مذکورہ زمین فوری طور پر حکومت سندھ کو واپس کی جائے اور اس حوالے سے محکمہ لینڈ یوٹیلائزیشن کو 15 روز کے اندر آگاہ کیا جائے۔ کسی رجسٹرڈ لیز ڈیڈ یا دیگر رجسٹرڈ دستاویز کے اجرا کی صورت میں اسے بھی مجاز عدالت سے قانون کے مطابق منسوخ کرانے کی کارروائی کی جائے گی۔

دستاویز کی نقول ایڈووکیٹ جنرل سندھ، محکمہ قانون، محکمہ معدنیات و معدنی ترقی، حیدرآباد ڈویژن کے کمشنر، رجسٹریشن حکام، سندھ سیٹلمنٹ و لینڈ ریکارڈ حکام، ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ اور نیب کراچی سمیت متعلقہ حکام کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔

بن قاسم کی سرکاری اراضی بھی توجہ کی متقاضی

دھابیجی میں سرکاری اراضی کی لیز منسوخی کے بعد ضلع ملیر، بالخصوص بن قاسم میں سرکاری زمینوں کے ریکارڈ، لیز اور مبینہ الاٹمنٹس کی بھی غیر جانب دارانہ جانچ پڑتال کی ضرورت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بن قاسم میں نیشنل ہائی وے سے متصل اور اندرونی علاقوں میں قیمتی سرکاری اراضی کے استعمال، الاٹمنٹ اور لیز سے متعلق مختلف حلقوں کی جانب سے شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ایسے معاملات میں متعلقہ اداروں، بالخصوص نیب اور ریونیو حکام کی جانب سے ریکارڈ کی مکمل چھان بین سے صورتحال واضح ہوسکتی ہے۔

اہم: سرکاری حکم نامے میں 435 ایکڑ زمین کی لیز منسوخی، جعلی دستاویز قرار دیے جانے اور زمین حکومت سندھ کو واپس کرنے کے احکامات واضح طور پر درج ہیں۔ البتہ 2 ارب 61 کروڑ روپے مالیت اور نیب کی جاری انکوائری سے متعلق تفصیلات خبر میں نیب کے موقف کے طور پر ہی بیان کرنا زیادہ مناسب ہوگا، جب تک اس کی الگ سرکاری تصدیق دستیاب نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں