متحدہ اپوزیشن کے قیام کا معاملہ، مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن جماعتوں کو عشائیے پر مدعو کرلیا

متحدہ اپوزیشن کے قیام کا معاملہ، مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن جماعتوں کو عشائیے پر مدعو کرلیا

اسلام آباد: متحدہ اپوزیشن کے قیام اور آئندہ کے مشترکہ سیاسی لائحہ عمل پر مشاورت کے لیے مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو عشائیے پر مدعو کرلیا۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کے اعزاز میں عشائیہ آج رات مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ہوگا، جس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرز سمیت پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن جماعتوں کے رہنما شرکت کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کے اہم رہنماؤں کی بھی عشائیے میں شرکت متوقع ہے۔ ملاقات کے دوران موجودہ سیاسی صورتحال، متحدہ اپوزیشن کے قیام، باہمی اختلافات کے خاتمے اور حکومت کے مقابلے میں مشترکہ سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتیں پارلیمانی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے اور اہم قومی و سیاسی معاملات پر مشترکہ مؤقف اپنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیں گی۔

سیاسی اتحاد کے پس منظر میں اہم پیش رفت

سیاسی حلقوں کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی جانب سے مختلف اپوزیشن جماعتوں کو ایک میز پر لانے کی کوشش موجودہ سیاسی صورتحال میں اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اگر مختلف جماعتیں اپنے باہمی سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر مشترکہ پلیٹ فارم پر متفق ہوجاتی ہیں تو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ایک مضبوط اپوزیشن محاذ تشکیل پانے کا امکان ہے۔

اسلام اعوان کا تجزیہ

سیاسی تجزیہ کار اسلام اعوان کے مطابق تاریخ کا مطالعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑی سیاسی، سماجی اور فکری تبدیلیاں ہمیشہ اقتدار کے مراکز سے نہیں بلکہ معاشرے کے ان طبقات سے جنم لیتی ہیں جو اقتدار کے حصول کے بجائے اپنے بنیادی انسانی، سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔

اسلام اعوان کا کہنا ہے کہ یورپ کی نشاۃِ ثانیہ، روشن خیالی، اصلاحِ مذہب، شہری آزادیوں کی تحریکوں اور جدید جمہوری نظام کے ارتقا سمیت دنیا کی مختلف آزادی اور حقوق کی تحریکوں میں شاعروں، ادیبوں، فلسفیوں، دانشوروں، طلبہ، مزدوروں اور عام شہریوں نے اجتماعی شعور کی تشکیل اور سیاسی تبدیلی میں بنیادی کردار ادا کیا۔

ان کے مطابق سیاسی اور مذہبی جماعتیں، خصوصاً جب وہ طویل عرصے تک اقتدار، مراعات اور ریاستی ڈھانچے کا حصہ بن جائیں، بعض اوقات موجودہ سیاسی و سماجی نظام کے تحفظ کی طرف مائل ہوجاتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں سیاست کا بنیادی محرک عوامی آزادیوں اور بنیادی حقوق کی توسیع کے بجائے اقتدار میں شراکت، سیاسی مفادات اور طاقت کے موجودہ توازن کو برقرار رکھنا بن سکتا ہے۔

اسلام اعوان کے تجزیے کے مطابق حقیقی تبدیلی اس وقت جنم لیتی ہے جب معاشرے کے وہ طبقات جو اقتدار اور مراعات کے خواہش مند نہیں ہوتے، اپنے حقوق کے بارے میں اجتماعی شعور پیدا کرتے اور موجودہ نظام سے بنیادی سوالات پوچھنا شروع کرتے ہیں۔ شاعر اور ادیب اس شعور کو زبان دیتے ہیں، فلسفی اور دانشور اسے فکری بنیاد فراہم کرتے ہیں جبکہ عام شہری اپنی اجتماعی قوت کے ذریعے اسے سیاسی اور سماجی مطالبے میں تبدیل کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جمہوری تبدیلی کا بنیادی محرک محض حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ شہری اور ریاست کے تعلق کی ازسرنو تشکیل ہے۔ ایسا نظام درکار ہے جس میں اقتدار کسی فرد، جماعت یا غیر منتخب مرکز کا استحقاق نہ ہو بلکہ آئین کے تابع ہو، پارلیمنٹ عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی نمائندہ ہو اور ہر شہری کو آزادیِ اظہار، سیاسی شرکت، سماجی تحفظ، مساوات اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت حاصل ہو۔

اسلام اعوان کے مطابق عمران خان کی قید نے حکمران مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی اس بحث پر سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ریاستی معاملات میں طاقت کے مراکز کا کردار کیا ہونا چاہیے۔ ان کے بقول تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود قومی قیادت، سیاسی و مذہبی جماعتوں، وکلاء، صحافیوں، دانشوروں، شاعروں، سول سروس اور عدلیہ کے مختلف حلقوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ ملک کو آئین، پارلیمنٹ اور عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر چلایا جانا چاہیے۔

اسلام اعوان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ سیاسی تلخیوں کو کم کرکے متحدہ اپوزیشن کے قیام کی کوشش اسی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ کوشش آگے بڑھتی ہے تو مستقبل میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ علماء، دینی جماعتوں، وکلاء، صحافیوں، دانشوروں، شاعروں، ادیبوں اور مزدور تنظیموں سمیت مختلف طبقات کو ایک وسیع تر پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

اسلام اعوان کے مطابق ایسی تحریک کا بنیادی مقصد کسی ایک حکومت یا جماعت کی مخالفت نہیں بلکہ آئین و قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی اور شہریوں کی جمہوری آزادیوں کی بحالی ہونا چاہیے۔ ان کے بقول پائیدار اصلاحات کا سوال صرف یہ نہیں کہ اقتدار کس کے ہاتھ میں ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ عوام اپنے حقوق کے بارے میں کس قدر باشعور، منظم اور متحرک ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق آج ہونے والا عشائیہ اس حوالے سے اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں مختلف اپوزیشن جماعتیں پہلی مرتبہ ایک مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم، مشترکہ لائحہ عمل اور مستقبل کی حکمت عملی کے امکانات پر براہِ راست تبادلہ خیال کرسکتی ہیں۔ تاہم متحدہ اپوزیشن کی عملی تشکیل کا انحصار جماعتوں کے باہمی اختلافات، قیادت کے درمیان اعتماد اور مشترکہ سیاسی ایجنڈے پر اتفاق رائے پر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں