وزیراعظم کی تقریر میں عوام کو آخر میں مخاطب کرنے پر سوالات اٹھا دیے گئے

وزیراعظم کی تقریر میں عوام کو آخر میں مخاطب کرنے پر سوالات اٹھا دیے گئے

اسلام آباد: یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب سے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے خطاب کے آغاز میں صدرِ مملکت، حکومتی عہدیداران اور سول و عسکری اداروں کے افسران و ملازمین کو مخاطب کرنے کے بعد عوام کا ذکر آخر میں کیے جانے پر سوالات اٹھا دیے گئے۔

ایک تحریری ردعمل میں کہا گیا ہے کہ جمہوری معاشرے میں اولین ترجیح عوام ہونی چاہیے، کیونکہ ریاست کے اصل اختیار اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہی ہیں۔ عوام اپنے ٹیکس، محنت اور بیرونِ ملک کمائی کے ذریعے ملکی نظام، دفاعی اخراجات اور سرکاری اداروں کے مالی وسائل میں حصہ ڈالتی ہے۔

ردعمل میں وزیراعظم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا گیا کہ عوام ہی ملک کے تمام اداروں کو افرادی اور مالی طاقت فراہم کرتی ہے اور انہی کے ووٹ سے سیاسی نمائندے منتخب ہوکر اقتدار میں آتے ہیں، اس لیے قومی تقریبات میں عوام کو اولین حیثیت دی جانی چاہیے۔

تحریر میں مزید کہا گیا کہ 14 اگست بھی عوام کی قربانیوں اور جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہوا، جبکہ سیاسی اور سرکاری ادارے قیامِ پاکستان کے بعد وجود میں آئے۔ اس لیے قومی دن کے موقع پر عوام کو آخر میں نہیں بلکہ سب سے پہلے عزت و احترام کے ساتھ مخاطب کیا جانا چاہیے۔

ردعمل میں وزیراعظم کو تجویز دی گئی کہ قومی تقاریب سے خطاب کی ایک باقاعدہ روایت متعارف کرائی جائے، جس کے تحت تقریر کا آغاز اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام کے بعد “اسلامی جمہوریہ پاکستان کے غیور و قابلِ احترام عوام” کے الفاظ سے کیا جائے۔

تحریر میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ حکمران ملک کے وارث نہیں بلکہ عوام کے خادم ہوتے ہیں، اس لیے ریاستی اور سیاسی عہدیداران کو عوام کی بالادستی اور اہمیت کو ہر قومی موقع پر مقدم رکھنا چاہیے۔

مؤقف کے مطابق پاکستان میں قومی تقریبات سے خطاب کرنے والے سیاسی، عسکری اور سرکاری عہدیداران کے لیے عوام کو اولین مخاطب بنانے کی روایت قائم ہونی چاہیے، تاکہ جمہوری اقدار، عوامی بالادستی اور قیامِ پاکستان کے لیے دی جانے والی عوامی قربانیوں کی حقیقی معنوں میں ترجمانی ہوسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں