اٹک: جعلی سرکاری خط کے ذریعے 6 افغان باشندوں کے شناختی کارڈ بحال کرانے کی کوشش ناکام، مقدمہ درج
اٹک ڈسٹرکٹ لیول کمیٹی (DLC) کا جعلی خط تیار کرکے 6 افغان باشندوں کے شناختی کارڈ بحال اور انہیں پاکستان میں رہنے کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی۔ پولیس نے جعل سازی کے الزام میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے دو سرکاری ملازمین کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کا بھی آغاز کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر آفس اٹک کے سینئر کلرک وقار احمد نے تھانہ اٹک سٹی میں درخواست دے کر مقدمہ درج کرایا ہے کہ توفیق حیدر ولد مبارک خان، ساکن محلہ حکیم آباد، ڈھوک شرفہ، صدر بازار اٹک نے 6 افغان باشندوں کے شناختی کارڈ بحال اور ان بلاک کروانے کے سلسلے میں ایک مبینہ جعلی سرکاری خط پیش کیا۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے تحریر کیا کہ وہ علی مرجان ولد دین محمد اور اس کے بیٹوں شین گل، محمد گل، مومن خان اور مسلم خان کو طویل عرصے سے جانتا ہے، جبکہ درخواست کے ساتھ ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کردہ خط بھی منسلک کیا گیا، جس میں مذکورہ افغان باشندوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے اور ہولڈنگ سینٹر میں موجود افراد کو رہا کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ لیول کمیٹی میں سرکاری ادارے کے نام سے جعلی خط پیش کرنا ایک سنگین معاملہ ہے، جس کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔
پولیس نے جعل سازی اور مبینہ طور پر جعلی سرکاری دستاویز استعمال کرنے کے معاملے پر مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے معاملے میں مبینہ طور پر ملوث دو سرکاری ملازمین کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت محکمانہ کارروائی بھی شروع کردی ہے۔
انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے معاملے کے تمام پہلوؤں کی چھان بین کی جارہی ہے، جبکہ مزید حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کا امکان ہے۔