مکہ دفاعی معاہدہ: عالمِ اسلام کے نئے دفاعی دور کا آغاز، اسرائیل اور بھارت میں تشویش
تحریر فرقان حمید
مکہ مکرمہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد خطے کے تزویراتی منظرنامے میں اہم تبدیلی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ تینوں ممالک نے مشترکہ سلامتی، دفاعی تعاون اور تزویراتی رابطوں کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
خصوصی تجزیے کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی نظام میں مسلم دنیا کے اپنے دفاعی مستقبل کی تلاش کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے مشترکہ دفاع اور اجتماعی سلامتی کا تصور مزید مضبوط ہوا ہے۔ تاہم معاہدے کی عملی فوجی ذمہ داریوں اور ممکنہ ردعمل کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔
تجزیے میں پاکستان کو اس نئے تزویراتی تصور کا اہم ستون قرار دیا گیا ہے، جس کے پاس وسیع عسکری تجربہ اور جوہری صلاحیت موجود ہے، جبکہ ترکیہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی، ڈرونز اور دفاعی صنعت کے باعث اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ سعودی عرب اپنی معاشی طاقت، توانائی کے وسائل اور خطے میں جغرافیائی و سیاسی اہمیت کے ذریعے اس تعاون کو نئی تزویراتی جہت دے سکتا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں بدلتے ہوئے سکیورٹی ڈھانچے کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ بعض عالمی تجزیوں کے مطابق یہ معاہدہ علاقائی ممالک میں دفاعی خود انحصاری اور باہمی سکیورٹی تعاون کی بڑھتی ہوئی خواہش کی عکاسی کرتا ہے، تاہم تینوں ممالک نے معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد نہیں ہے۔
تجزیے میں اسرائیل اور بھارت پر بھی اس پیش رفت کے ممکنہ تزویراتی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پاکستان کی عسکری صلاحیت، ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کی مالی و جغرافیائی طاقت کا امتزاج خطے کے موجودہ طاقت کے توازن پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق معاہدے کی اصل اہمیت اس کے عملی نفاذ سے سامنے آئے گی۔ مشترکہ فوجی مشقیں، دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مستقل ادارہ جاتی رابطہ کاری اس معاہدے کو محض سیاسی اعلان کے بجائے مؤثر دفاعی شراکت داری میں تبدیل کرنے میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔
تجزیے کے مطابق اگر مستقبل میں دیگر علاقائی ممالک بھی اس دفاعی تعاون کے کسی وسیع تر فریم ورک کا حصہ بنتے ہیں تو مکہ معاہدہ مسلم دنیا کے ایک نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے، تاہم اس مرحلے پر اسے کسی وسیع تر ’’اسلامی نیٹو‘‘ یا مستقل عسکری بلاک سے تعبیر کرنا قبل از وقت ہوگا۔اگر آپ چاہیں تو میں اسی کو ، ٹی وی چینل کی بریکنگ نیوز/ٹکرز یا ویب نیوز اسٹوری کے انداز میں بھی بنا سکتا ہوں۔اخباری فرنٹ پیج کی بڑی خبر