خبر
اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے نیشنل بینک آف پاکستان کے نئے صدر کی تعیناتی میں تاخیر نے انتظامی اور قانونی پہلوؤں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بینکنگ نیشنلائزیشن ایکٹ کے تحت صدر کی مدتِ ملازمت مکمل ہونے پر حکومت عموماً کسی سینئر ایگزیکٹو کو قائم مقام صدر کا چارج دیتی ہے، تاہم وزارتِ خزانہ نے موجودہ صدر کی مدت دو ہفتے یا نئے صدر کی تقرری تک بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ بعض حلقے اس اقدام کو قانون کی روح سے انحراف قرار دے رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ بینکنگ نیشنلائزیشن ایکٹ میں صدر کی مدت میں توسیع کی واضح گنجائش موجود نہیں۔
نیشنل بینک کے صدر کا عہدہ ملکی مالیاتی نظام میں انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے، اس لیے اس تقرری پر حکومتی اور مالیاتی حلقوں کی گہری نظر ہوتی ہے۔ تین سال قبل موجودہ صدر کی تقرری کے وقت بھی سیاسی سطح پر یہ تاثر سامنے آیا تھا کہ اتحادی جماعتوں نے اہم سرکاری مالیاتی اداروں میں اپنی پسند کی تقرریاں کرائی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اس وقت سعودی عرب کے دورے پر ہیں، جبکہ ان کی آئندہ ہفتے واپسی کے بعد وزارتِ خزانہ کی جانب سے نیشنل بینک کے نئے صدر کی تقرری متوقع ہے، تاہم یہ فیصلہ حکومتی اتحادیوں کے باہمی اتفاقِ رائے سے مشروط ہو سکتا ہے۔
نوٹ: یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور ذرائع کے دعوؤں پر مبنی ہے۔ بینکنگ نیشنلائزیشن ایکٹ کی قانونی تشریح اور وزارتِ خزانہ کے مؤقف کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔