اٹلی میں پاکستانی نژاد ثمن عباس قتل کیس کا فیصلہ برقرار، والدین سمیت چار افراد کو عمر قید
روم: اٹلی کی سپریم کورٹ نے پاکستانی نژاد نوجوان لڑکی ثمن عباس کے قتل کیس میں والدین سمیت چار افراد کو سنائی گئی عمر قید کی سزائیں برقرار رکھتے ہوئے ملزمان کی اپیلیں مسترد کر دیں۔
ثمن عباس کا تعلق منڈی بہاؤالدین سے تھا اور وہ اپنے خاندان کے ہمراہ اٹلی کے قصبے نوویلارا میں مقیم تھی۔ 18 سالہ ثمن کی ٹک ٹاک کے ذریعے پاکستانی نوجوان ثاقب ایوب سے دوستی ہوئی، جس پر اس کے اہلخانہ نے شدید مخالفت کی اور پاکستان میں اس کی مرضی کے خلاف رشتہ طے کرنے کی کوشش کی۔
ثمن نے زبردستی کی شادی سے انکار کرتے ہوئے پولیس سے مدد طلب کی، جس کے بعد نومبر 2020 میں اسے ایک شیلٹر ہوم منتقل کر دیا گیا۔ تاہم اپریل 2021 میں والدین کے اصرار پر وہ گھر واپس آگئی۔
پولیس کے مطابق 30 اپریل اور یکم مئی 2021 کی درمیانی شب ثمن کو والدین کے ہمراہ گھر سے باہر جاتے دیکھا گیا، جس کے بعد وہ دوبارہ زندہ نہیں دیکھی گئی۔ تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج میں خاندان کے افراد کو بیلچے، لوہے کے راڈ اور بالٹی لے کر جاتے ہوئے دیکھا گیا۔
بعد ازاں ثمن کے چچا دانش حسنین نے اعتراف کیا کہ ثمن کو گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا تھا۔ اس کی نشاندہی پر مقتولہ کی لاش گھر کے قریب ایک ویران فارم ہاؤس سے برآمد ہوئی۔ پوسٹ مارٹم اور ڈی این اے سمیت دیگر شواہد سے قتل کی تصدیق ہوئی۔
ثمن کے والد شبر عباس، والدہ نازیہ، چچا دانش اور دو کزنز کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔ والدین کو قتل کے جرم میں عمر قید، جبکہ چچا دانش کو پہلے 14 سال اور بعد ازاں اپیل میں 22 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ دونوں کزنز کو ابتدائی طور پر بری کیا گیا، تاہم اپیلٹ کورٹ نے انہیں بھی مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔
ملزمان نے فیصلے کے خلاف اٹلی کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، تاہم عدالت نے اپیل مسترد کرتے ہوئے تمام سزائیں برقرار رکھیں۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ثمن عباس کا قتل اچانک اشتعال کا نتیجہ نہیں بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ عدالت کے مطابق والدین اس جرم سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے، کیونکہ انہوں نے اپنی بیٹی کو قاتلوں کے حوالے کیا اور جرم کے بعد فوری طور پر اٹلی سے فرار ہوگئے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اٹلی میں کسی بھی ثقافتی یا مبینہ مذہبی روایت کی آڑ میں کسی خاتون کی آزادی، وقار اور جینے کے حق کو سلب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اٹلی میں 1948 سے سزائے موت پر پابندی ہے اور سنگین جرائم میں زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔
کورٹ کہانی: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہوراگر آپ چاہیں تو میں اسی مواد کو مختصر نیوز پیکیج، ٹی وی رپورٹ، سوشل میڈیا پوسٹ یا 5 سے 7 الگ الگ نیوز کارڈز کی شکل میں بھی ڈھال سکتا ہوں۔