-
سرکاری اسکولوں اور کالجز کو نواز شریف کے نام سے منسوب کرنے کے خلاف کیس: چیف سیکرٹری پنجاب طلب، عدالت کا سخت اظہارِ برہمی
لاہور: لاہور ہائی کورٹ میں سرکاری اسکولوں اور کالجز کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے نام سے منسوب کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کو آج دوپہر ساڑھے 12 بجے ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
جسٹس فاروق حیدر نے کیس کی سماعت کی۔ چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے عدالتی حکم کے باوجود جواب جمع نہ کرانے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ “لگتا ہے کسی کی خوش فہمی، غلط فہمی میں تبدیل ہو چکی ہے۔”
عدالت نے مزید کہا، “کیا چیف سیکرٹری جواب داخل کرانے یا اس پر اپنے دستخط کرنے کو توہین سمجھتے ہیں؟ عدالت کو آئین، قانون اور عدالتی وقار سے سروکار ہے۔ یہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا کہ عدالتی حکم کو بے توقیر کیا جائے، اور کسی کو بھی عدالتی حکم کی بے توقیری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”
جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ “یہ عدالت کا چوتھا حکم ہے مگر چیف سیکرٹری نے اب تک جواب جمع نہیں کرایا۔” اس موقع پر عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ جواب کس کی جانب سے جمع کرایا گیا ہے، جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ جواب متعلقہ افسر کی طرف سے آیا ہے۔
عدالت نے پوچھا کہ عدالتی حکم کس کے لیے تھا، جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ حکم چیف سیکرٹری پنجاب کے لیے تھا۔ اس پر عدالت نے چیف سیکرٹری کو 15 منٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا، تاہم ریڈر کی جانب سے ان کی میٹنگ سے متعلق آگاہ کیے جانے پر عدالت نے انہیں آج دوپہر سوا 12 بجے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت جاری کر دی۔
درخواست گزار اشبا کامران نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے جس کے مطابق کسی بھی سرکاری عمارت کا نام کسی شخصیت کے نام پر نہیں رکھا جا سکتا۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت سرکاری اسکولوں اور کالجز کو نواز شریف کے نام سے منسوب کرنے سے روکنے کا حکم جاری کرے۔
واضح رہے کہ عدالت نے ابھی اس درخواست پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا، اور معاملہ زیرِ سماعت ہے۔