لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ: واٹس ایپ گروپس میں گستاخانہ مواد پھیلانے کے کیس میں ملزم کی ضمانت مسترد
(یہ فیصلہ 28 جنوری 2026ء کو سنایا گیا)
ڈیجیٹل جرائم اور واٹس ایپ گروپس کے استعمال کے حوالے سے عدالتِ عالیہ کے پانچ بڑے اور اہم ترین قانونی اصول وضع
لاہور ہائی کورٹ نے واٹس ایپ گروپس میں توہین آمیز اور گستاخانہ مواد پھیلانے کے سنگین مقدمے میں نامزد ملزم سید عبدالمنان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ جناب جسٹس طارق سلیم شیخ پر مشتمل یک رکنی بینچ نے کیس نمبر Crl. Misc. No. 69895-B/2025 پر تفصیلی اور تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے واٹس ایپ گروپس کے ایڈمنز، عام ممبران، اور مواد شیئر کرنے والوں کی مجرمانہ ذمہ داری کے تعین کے لیے تاریخی اور انقلابی قانونی رہنما اصول بھی وضع کر دیے ہیں، جو مستقبل میں سائبر کرائم کے مقدمات کے لیے نظیر ثابت ہوں گے۔
مقدمے کا پسِ منظر اور ایف آئی اے کی کارروائی
مقدمے کے حقائق کے مطابق، یہ معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے سائبر کرائم ونگ، لاہور میں درج مقدمہ نمبر 57/2024 (مورخہ 5 اپریل 2024ء) سے متعلق ہے۔ استغاثہ کے مطابق، اس کیس کے مخبر (Informant) کو دو واٹس ایپ گروپس، جن کے نام ‘R.K.’ اور ‘M.B.’ ہیں، میں شامل کیا گیا تھا۔ مخبر نے دیکھا کہ ان گروپس میں متعدد ارکان کی جانب سے انتہائی قابلِ اعتراض، توہین آمیز اور گستاخانہ مواد شیئر کیا جا رہا ہے، جس پر اس نے ان پوسٹس کے اسکرین شاٹس محفوظ کر کے ایف آئی اے کو باقاعدہ شکایت درج کروائی۔
ایف آئی اے کی انکوائری کے دوران انکوائری آفیسر نے پایا کہ ملزم سید عبدالمنان نے اپنے موبائل فون کے ذریعے مبینہ طور پر یہ مواد اپ لوڈ، شیئر اور پھیلایا تھا، جس پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو 8 اپریل 2024ء کو گرفتار کر کے اس کا ‘Vivo Y22’ موبائل فون ضبط کر لیا گیا تھا۔ ملزم پر تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی دفعات 295-A، 295-B، 295-C، 298-A، 109 اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ، 2016 (PECA) کی دفعہ 11 کے تحت سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ جیل بھیجے جانے کے بعد ملزم نے ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہائی کی استدعا کی تھی۔
عدالت میں فریقین کے سنسنی خیز دلائل
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل محمد عثمان بھٹی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ان کا مؤکل بے قصور ہے اور اسے بدنیتی کی بنیاد پر جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے کہ ملزم ان واٹس ایپ گروپس کا ایڈمنسٹریٹر یا تخلیق کار (Creator) تھا۔ ملزم کا تعلق محض گروپ کی رکنیت اور موبائل کی برآمدگی تک ہے، جو جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ وکیل نے موبائل فون کی فورینسک رپورٹ پر بھی شدید اعتراض اٹھایا اور کہا کہ ملزم کا موبائل 8 اپریل کو ضبط ہوا جبکہ اس کی تکنیکی تجزیاتی رپورٹ (Technical Analysis Report) 5 ہفتوں بعد 17 مئی کو تیار کی گئی، اس طویل عرصے میں موبائل کے ڈیٹا میں سائبر کرائم حکام کی جانب سے خرد برد یا مواد پلانٹ کیے جانے کا قوی خدشہ موجود ہے، لہٰذا یہ کیس ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کی دفعہ 497(2) کے تحت “مزید انکوائری” کا ہے اور ملزم ضمانت کا حقدار ہے۔
دوسری جانب اسسٹنٹ اٹارنی جنرل محمد نسیم ثقلین نے مدعی کے وکیل محمد نواز شیخ ایڈووکیٹ کی معاونت سے ضمانت کی سخت مخالفت کرتے ہوئے ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ملزم پر الزام صرف گروپ کی ممبرشپ کا نہیں ہے، بلکہ انکوائری کے دوران ملزم سمیت 6 افراد گرفتار ہوئے اور ملزم کے فون کی جو آفیشل تکنیکی رپورٹ سامنے آئی، اس کے مطابق ملزم کے موبائل کے واٹس ایپ بیک اینڈ کے “Sent” (بھیجے گئے) فولڈر میں گستاخانہ مواد محفوظ پایا گیا، جو اسے براہِ راست مواد پھیلانے اور جرم سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے موبائل فون کی تحویل محفوظ ہونے اور کسی بھی قسم کی خرد برد کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔
عدالتِ عالیہ کا قانونی تجزیہ: واٹس ایپ استعمال کے 5 سنہری اصول
جناب جسٹس طارق سلیم شیخ نے اپنے فیصلے میں ڈیجیٹل دور کے جرائم اور واٹس ایپ نیٹ ورکس کے ذریعے مجرمانہ ذمہ داری کے تعین کے لیے پانچ واضح زمرے (Categories) مقرر کیے ہیں:
1. گروپ تخلیق کار یا ایڈمنسٹریٹر (Creator/Administrator): محض گروپ کا ایڈمنسٹریٹر ہونے کی وجہ سے کوئی شخص ممبران کی طرف سے بھیجے گئے ہر میسج کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ایڈمن کے پاس میسج پوسٹ ہونے سے پہلے اسے سینسر یا ماڈریٹ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ تاہم، اگر گروپ کسی غیر قانونی مقصد کے لیے بنایا گیا ہو، یا ایڈمن خود سازش یا اعانت (Abetment) میں شامل ہو، تو وہ مجرم ہوگا۔
2. عام ممبر (Ordinary Member): کسی گروپ کا محض ممبر ہونا، اس میں غیر فعال (Passive) رہنا، یا گروپ نہ چھوڑنا کوئی جرم نہیں ہے۔ جب تک کسی ممبر کا اپنا کوئی ارادی یا مثبت فعل (جیسے مواد بھیجنا یا فارورڈ کرنا) ثابت نہ ہو، اسے مجرم نہیں کہا جا سکتا۔
3. اصل اپ لوڈر یا پھیلانے والا (Actual Uploader/Disseminator): جو شخص خود اپنے اکاؤنٹ یا فون سے قابلِ اعتراض مواد اپ لوڈ، فارورڈ یا شیئر کرتا ہے، اس کی مجرمانہ ذمہ داری براہِ راست اور انفرادی ہوتی ہے۔
4. ردِعمل یا ایموجی کا استعمال (Reactions/Emojis): کسی پوسٹ پر محض ایموجی بھیجنا یا مختصر اتفاق کرنا خود بخود مواد پھیلانے کے زمرے میں نہیں آتا۔ اس کا فیصلہ کیس کے مجموعی حالات اور ملزم کی مجرمانہ نیت (Mens Rea) کو دیکھ کر کیا جائے گا۔
5. مواد نہ ہٹانا یا خاموشی (Failure to Act): جب تک قانون کوئی واضح ڈیوٹی عائد نہ کرے، گروپ ایڈمن کی طرف سے کسی ممبر کی پوسٹ کو نہ ہٹانا یا خاموش رہنا خود بخود جرم کی اعانت نہیں بنتا، الا یہ کہ وہ جان بوجھ کر اس سہولت کاری کا حصہ ہو۔
عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے ایک سابقہ فیصلے (محمد جاوید میمن کیس) کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگرچہ واٹس ایپ کی نجی ون ٹو ون گفتگو “پبلک پلیس” نہیں ہوتی، لیکن موجودہ کیس چونکہ PECA کی دفعہ 11 کے تحت ہے، اس لیے قانون سازوں نے اس دفعہ میں مواد کا “پبلک” ہونا لازمی شرط قرار نہیں دیا، بلکہ صرف یہ دیکھنا کافی ہے کہ مواد کسی انفارمیشن سسٹم کے ذریعے مذہبی یا فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے لیے بھیجا گیا ہو۔
عدالت کا حتمی فیصلہ: ضمانت خارج
لاہور ہائی کورٹ نے کیس کے تمام حقائق اور تکنیکی رپورٹ کا سرسری جائزہ لینے کے بعد ملزم سید عبدالمنان کی ضمانت مسترد کرنے کا حکم سنایا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ملزم کے خلاف ریکارڈ پر ٹھوس شواہد موجود ہیں کیونکہ مبینہ توہین آمیز مواد ملزم کے فون کے واٹس ایپ “Sent” فولڈر سے برآمد ہوا ہے اور ملزم نے تفتیش میں یہ بھی نہیں کہا کہ اس کا فون کوئی اور شخص استعمال کر رہا تھا۔
عدالت نے وکیلِ صفائی کا چین آف کسٹڈی (Chain of Custody) پر اعتراض مسترد کرتے ہوئے نوٹ کیا کہ موبائل فون تجزیہ کار کو بالکل سیل شدہ حالت میں باقاعدہ فارم کے ساتھ موصول ہوا تھا اور فورینسک لیب میں کسی خرد برد کا کوئی آزاد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے (شاہ زمان کیس) کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس طارق سلیم شیخ نے رولنگ دی کہ ہر فرضی سوال کیس کو مزید انکوائری کا نہیں بنا دیتا، جب تک اس کا کوئی ٹھوس رخ ملزم کی بے گناہی کی طرف نہ جاتا ہو۔
عدالتِ عالیہ نے ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست کو خارج (Dismiss) کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ مشاہدات صرف ضمانت کی حد تک محدود ہیں اور ٹرائل کورٹ ان سے متاثر ہوئے بغیر شہادتوں پر کیس کا آزادانہ فیصلہ کرے۔ عدالت نے ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہونے کے باعث ٹرائل کورٹ کو حکم دیا کہ اس مقدمے کے ٹرائل کو جلد از جلد مکمل (Expedite) کیا جائے۔