لاہور: کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، متعدد زخمی، مالک اور ٹھیکیدار گرفتار

لاہور: کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، متعدد زخمی، مالک اور ٹھیکیدار گرفتار

لاہور کے علاقے کاہنہ میں گھر میں قائم ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے دلخراش سانحہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 14 بچے جاں بحق جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوگئے۔ حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور والدین اپنے بچوں کی تلاش میں اسپتالوں اور جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت ٹیوشن سینٹر میں بچوں کی کلاس جاری تھی۔ چھت اچانک گرنے سے درجنوں بچے ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو 1122، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور مقامی شہریوں نے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد ملبے سے بچوں اور ایک ٹیچر کو نکالا گیا، جبکہ متعدد زخمی بچوں کو فوری طور پر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔

حکام کے مطابق حادثے کے وقت عمارت کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام جاری تھا، جس کے باعث عمارت کی ساخت کمزور ہوئی اور چھت گر گئی۔ واقعے کے بعد ٹیوشن سینٹر کے مالک اور تعمیراتی کام کے ٹھیکیدار کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق بچوں کی مغفرت، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ انہوں نے زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے بھی واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ پوری قوم کے لیے باعث صدمہ ہے۔ انہوں نے عمارتوں کے حفاظتی معیار پر سختی سے عمل درآمد اور تعلیمی اداروں کے حفاظتی انتظامات کا باقاعدہ جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ بطور ماں وہ والدین کے دکھ اور تکلیف کا اندازہ کر سکتی ہیں، تاہم اس غم کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو زخمی بچوں کے بہترین علاج اور واقعے کی شفاف تحقیقات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

یہ افسوسناک سانحہ ایک بار پھر غیر منظور شدہ یا رہائشی عمارتوں میں قائم تعلیمی اداروں، ناقص تعمیرات اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد سے متعلق سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

سئنیر صحافی ایڈیٹر سٹی 42 نوید چوہدری نے اس واقعے کے بارے میں سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر کہا ”
کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر آئے 14 کم عمر بچوں کی شہادت ایک حادثہ بھی ہے اور سانحہ بھی۔ عمارت کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام کے دوران حفاظتی انتظامات نہ کرنا مجرمانہ غفلت ہے۔لیکن اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ تعلیم اور ترقی کے حوالے سے ہمارا معاشرہ کس حال میں ہے۔ یہ سب لاہور میں ہوا ہے۔ قیامت تو والدین اور ورثا پر ٹوٹی، جبکہ ٹی وی سکرینیں وزرا، مشیروں اور افسروں کے دوروں سے بھر گئیں۔ سرکاری اظہارِ افسوس، سخت نوٹس اور “ذمہ داروں” کو قرار واقعی سزا دینے کے بیانات چند روز تک ہلچل مچاتے رہیں گے، پھر سب کچھ تھم جائے گا، کیونکہ عام شہریوں کے ساتھ آج تک یہی ہوتا آیا ہے۔
اللہ تعالیٰ سب کو حادثات اور سانحات سے محفوظ رکھے، آمین۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں