اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر کی اہلیہ اور گریڈ 22 کی کسٹمز افسر رباب سکندر کو پاکستان عرب ریفائنری لمیٹڈ (پارکو) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل کیے جانے پر سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں کے مطابق پارکو کے بورڈ کے ہر اجلاس میں شرکت پر ایک بورڈ ممبر کو 3,500 امریکی ڈالر بطور معاوضہ ادا کیے جاتے ہیں۔ ان دعووں کے مطابق اگر کوئی رکن ماہانہ چار اجلاسوں میں شرکت کرے تو اسے 14 ہزار امریکی ڈالر، یعنی موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق تقریباً 40 لاکھ روپے ماہانہ معاوضہ مل سکتا ہے۔

دعوے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پارکو کے بورڈ میں توانائی کے شعبے کے ماہرین کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر احد چیمہ، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور دیگر اعلیٰ سرکاری شخصیات بھی شامل ہیں، جس پر ناقدین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایسی مراعات عام سرکاری ملازمین یا عام شہریوں کو بھی میسر ہیں۔

مبصرین نے اس معاملے کو “ایلیٹ کیپچر” (Elite Capture) کی مثال قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری اداروں کے بورڈز میں تقرریوں اور معاوضوں کا نظام مزید شفاف بنایا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں