جیو نیوز کی 15 روزہ معطلی پر صحافیوں، دانشوروں اور سوشل میڈیا صارفین میں بحث چھڑ گئی
اسلام آباد: پیمرا کی جانب سے 10 محرم کو نشر ہونے والے پروگرام “سفرِ عشق” میں مبینہ مذہبی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جیو نیوز کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل کیے جانے کے فیصلے پر صحافتی، سماجی اور عوامی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
معروف کالم نگار فاروق اقدس نے اپنی فیس بک پوسٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ متنازع مواد نہ تو جیو کی پالیسی کا حصہ تھا اور نہ ہی اس کی پروڈکشن جیو نیوز نے تیار کی تھی۔ ان کے مطابق ادارے نے واقعے کے فوراً بعد تحقیقات کا آغاز کیا اور ذمہ دار عناصر کا تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا اس معاملے میں ادارے سے باہر کے عوامل بھی ملوث ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ فاروق اقدس نے کہا کہ جیو نیوز نے باضابطہ معذرت کرتے ہوئے غلطی تسلیم کی، آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی یقین دہانی کرائی، لہٰذا لاکھوں ناظرین کو ان کے پسندیدہ پروگراموں سے نصف ماہ تک محروم کرنا ایک سخت فیصلہ معلوم ہوتا ہے۔
تاہم اس معاملے پر مختلف حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ مرزا عبدالقدوس نے اپنے تبصرے میں کہا کہ پروڈکشن یا پالیسی کی وضاحت اپنی جگہ، لیکن نشریات کی مکمل ذمہ داری جیو نیوز پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک سنگین اور توہین آمیز غلطی تھی، اس لیے دو ہفتوں کی معطلی کے بعد بھاری جرمانہ عائد کر کے نشریات بحال کی جانی چاہئیں تاکہ مستقبل میں تمام ادارے محتاط رہیں۔
تزئین اختر نے بھی جیو نیوز کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی چینل پر نشر ہونے والے مواد کی مکمل ذمہ داری اسی ادارے پر ہوتی ہے۔ انہوں نے ماضی کے بعض تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جیو نیوز نے یہ اقدام دانستہ طور پر کیا اور اس کے لیے کوئی عذر قابل قبول نہیں۔
دوسری جانب چودھری اکرم نے کہا کہ نشریاتی لائسنس کے ساتھ ضابطوں اور شرائط پر عمل درآمد بھی لازم ہوتا ہے، لیکن ملک میں قوانین پر کمزور عمل درآمد کے باعث اس نوعیت کے واقعات جنم لیتے ہیں۔
شاہد محمود نے پیمرا کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے جیو نیوز کی انتظامی اور ادارتی نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے۔
ادھر عزیز قریشی نے معاملے کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ جیو، جنگ گروپ اور میر فیملی ماضی میں بھی مختلف دباؤ اور حملوں کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ ان کے بقول اس مرتبہ بھی ممکنہ طور پر اندرونی عناصر نے نقصان پہنچانے میں کردار ادا کیا ہوگا، تاہم یہ اقدام ناکام ثابت ہوگا۔
اسی طرح دارا ظفر نے جیو نیوز کی جانب سے غلطی تسلیم کرنے اور خود احتسابی کے عمل کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا کو اس رویے کو سراہنا چاہیے تھا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ چینل کی بندش سے جنگ و جیو گروپ کے سینکڑوں ملازمین متاثر ہوں گے، اس لیے پابندی فوری طور پر ختم کی جانی چاہیے۔
واضح رہے کہ پیمرا نے پروگرام “سفرِ عشق” میں مبینہ ضابطہ خلاف ورزی کے معاملے پر جیو نیوز کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل کرتے ہوئے کیس مزید کارروائی کے لیے شکایات کونسل کو بھی بھجوا دیا ہے۔ فیصلے کے بعد سوشل میڈیا اور صحافتی حلقوں میں اظہارِ رائے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں بعض افراد اسے ضروری احتساب قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اسے غیر متناسب سزا اور میڈیا کی آزادی پر قدغن قرار دے رہے ہیں۔